خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 440

خطبات طاہر جلد ۱۲ 440 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء عیش و عشرت کرتا پھرتا ہے اور وہ بسا اوقات یہ سمجھتا ہے کہ میں اتنے گناہ کر بیٹھا ہوں کہ اب میری بخشش کہاں سے ہونی ہے اور پھر گناہوں کی کثرت اسے اور دلیر کر دیتی ہے۔کافر ہونے اور مومن ہونے کے درمیان میں بہت سے درجے ہیں کئی مومنوں کو ہم نے کفر کی حالت کی طرف اس طرح منتقل ہوتے ہوئے دیکھا ہے کہ ایک گناہ کے بعد دوسرا ، دوسرے کے بعد تیسرا پھر یہ خیال آجاتا ہے کہ گناہ گار تو ہم ہو ہی چکے ہیں۔اب ایسی حرکتیں روز مرہ کیوں نہ کریں اور پھر حیا اٹھ جاتی ہے تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافر کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔اللہ کی رحمت پر نظر رکھنی چاہئے۔یہاں اس کے لئے پھر یہی آیت پیغام دیتی ہے کہ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا کہ وہ ہر قسم کے گناہوں کو بخش سکتا ہے۔تمام گناہوں کو بخش سکتا ہے اگر وہ چاہے اس لئے تو بہ سے مایوس نہ ہو۔یہ مراد ہے کیونکہ اس کی بخشش کا تعلق تو بہ سے ہے۔یہ مضمون اس کے اندر داخل ہے کہ تو بہ سے اس لئے باز نہ رہے کہ اتنے گناہ بڑھ گئے ہیں کہ شاید خدا تعالیٰ معاف کرے ہی نا ایک اور حدیث میں جو ریاض الصالحین باب الرجاء سے لی گئی ہے۔عموماً صحاح ستہ کی احادیث ہی ہیں۔جو ریاض الصالحین میں داخل کی گئی ہیں۔حدیث کا اصل حوالہ یہاں نہیں دیا گیا۔بہر حال حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت عالیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن مومن اپنے رب کے بہت قریب لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے سایہ رحمت میں آجائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا اور کہے گا کہ کیا تو فلاں فلاں گناہ جانتا ہے جو تو نے کئے اس پر بندہ کہے گا ہاں میرے رب ! میں جانتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا دنیا میں میں نے اس گناہ کے متعلق تیری پردہ پوشی کی اور اب قیامت کے دن تمہارا وہ گناہ بخشتا ہوں۔الغرض اس کو صرف اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔(ریاض الصالحین باب الرجاء حدیث نمبر ۴۳۲) یہاں حدیث کے الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کان میں سرگوشی کرے گا ورنہ بظاہر تو یہ تصور ایسا ہے جو صرف انسان پر ہی صادق آتا ہے لیکن اللہ تعالی کا کان میں سر گوشی کرنا ایک بہت ہی پیار کی تمثیل ہے اور ایک حدیث کے الفاظ مجھے یاد ہیں کہ دوسروں سے اوجھل کر کے جیسے ماں کسی بچے کو پردے میں لے لے۔اپنی چادر کی لپیٹ میں لے کر پیار سے بات کرے۔اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اس دنیا میں میں نے تیری پردہ پوشی کی تھی نا مگر تجھے