خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 373

خطبات طاہر جلد ۱۲ 373 خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۹۳ء تو آپ نے ایک ملک کی نہیں کئی ملکوں کی مثال دیکھی ہے جو میں نے بغیر نام کے بیان کی ہے یہ رجحانات عالمی طور پر بہت وسیع ہو چکے ہیں اور یہ سوسائٹیاں اوپر سے نیچے تک بددیانت ہیں۔محاسبہ کروانے والے خود بد دیانت ہوتے ہیں اور جولوگ ان کو چنتے ہیں وہ بددیانت ہوتے ہیں اور جس طرح یہ راہنما اپنے جاتے ہیں وہ طریق بددیانتی کا ہوتا ہے اور سب جگہ آپ کو رزق حرام کام کرتا ہوا دکھائی دے گا یعنی ووٹوں کی قیمت پڑ رہی ہے۔جس نے پیسے لے کر ووٹ دینے ہیں وہ یہ کہاں دیکھتا ہے کہ کوئی شریف النفس انسان ہے یا بے ایمان اور بددیانت ہے وہ تو اپنا سودا خود اپنے آپ کو بیچ رہا ہوتا ہے ساری قوم اپنی عزت، اپنی ناموس، اپنے وقار، اپنی بھلائی کے سودے کر رہی ہوتی ہے اور اس پر چسکے لے رہی ہوتی ہے کہ خوب سودا ہوا کسی کی اتنی قیمت پڑ گئی کسی کی اتنی قیمت پڑ گئی۔پھر اس طرح جو سیاستدان ابھرتے ہیں ان کے سودے ہو رہے ہوتے ہیں اور اس کو آج کل وہاں Horse Trading کہتے ہیں اور یہ تو ایسا محاورہ ہے کہ جو شخص Horse Trading کا انگریزی لفظ جانتا ہو وہ سمجھتا ہے کہ میں بہت بڑا عالم انسان ہوں۔مجھے یہ محاورہ آتا ہے Horse Trading اور بڑے فخر کے ساتھ ایک دوسرے پر Horse Trading کے الزام لگائے جاتے ہیں۔Horse Trading کا مطلب ہے گھوڑوں کا سودا کرنا یا گھوڑوں کی سودا گری۔کچھ سیاستدان وہاں سے خرید کر ادھر ڈال لئے اور کچھ یہاں سے خرید کر ادھر ڈال لیے۔Horse Trading کے ذریعہ حکومتیں توڑی جاتی ہیں اور جو خرید رہے ہوتے ہیں ، جو تو ڑ رہے ہوتے ہیں وہ دوسروں کو طعنے دے رہے ہوتے ہیں کہ تم نے سیاست کو گندا کر دیا تھا۔انسانوں کے ایسے ایسے سودے کئے ہیں کہ اب قوم یہ کسی طرح برداشت نہیں کر سکتی اور اس کا توڑ یہ ہے کہ ہم آدمی خرید کر تم سے تو ڈلیں گے تو جس چیز کا الزام لگایا جاتا ہے وہی چیز کر کے پھر اسی کے ذریعہ انقلاب برپا ہورہے ہوتے ہیں۔جب یہ حالت پہنچ جائے تو کیسے کوئی قوم ہلاکت سے بچ سکتی ہے۔سارا معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور نچلی سطح پر بھی جو لوگ ووٹ دیتے ہیں اور بعد میں بددیانتوں کے محاسبہ کے مطالبے کرتے ہیں عملاً وہ سارے بددیانت ہیں کیونکہ ایک سوسائٹی کی یہ جو صورتحال ہے یہ بددیانت افراد کے مجموعہ کا نتیجہ ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نیک لوگوں کی اجتماعی زندگی کا یہ نتیجہ نکل رہا ہو۔گھاس اپنی جڑوں تک گندا ہو چکا ہے اور وہاں سے زہر لے کر اگ رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں جو بھی فصل ہو گی جو بھی جانور