خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 341

خطبات طاہر جلد ۱۲ 341 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء چالاکیاں، اتنی پیاری چالاکیاں تھیں کہ جب میں نے ان کو پڑھا تو مجھے یقین آ گیا کہ یہ دعا تو قبول ہونی ہی ہوئی تھی اور باقی صفحہ میں پھر اسی کا ذکر ملتا تھا کہ جب ہم نے خدا کو یہ کہا تو اچانک دل کے تالے کھل گئے اور روانی پیدا ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ان دعاؤں کو قبول کر لیا۔ابھی کل پرسوں کی بات ہے امریکہ سے ہماری ایک بہن کا فون آیا تھا انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر مجھے یہ فکر پیدا ہوئی اور ایسی تشویش تھی کہ اس کے نتیجہ میں بے چین ہوکر میں نے جو دعا کی وہ اتنی جلدی مقبول ہوئی کہ میں حیران رہ گئی۔پس دوسرا پہلو جو خدا کی حضوری کا ہے وہ یہ ہے۔پہلا استغفار جب مجلس شوریٰ میں جایا کریں تو اپنی کمزوریوں پر نظر رکھیں اور سب سے بڑی کمزوری انانیت کی کمزوری ہے، آپ کو بار بارنفس دھوکہ دے گا، آپ کو شوخی سکھائے گا، آپ کو اپنے کمزور، کم عقل بھائی پر ہنسنے پر آمادہ کرے گا تحقیر پر آمادہ کرے گا ، غلط دلیل دینے والے کا مذاق اڑانے پر آمادہ کرے گا، کئی قسم کے شیطانی وسوسے ہیں جو ایسی مجالس جن میں اہم امور پر غور ہوتا ہے۔ان مجالس میں وساوس انسان کے دلوں پر اور دماغ پر قبضہ کر لیا کرتے ہیں اور یہ وساوس ہیں جو دراصل قوموں کو گمراہ کرنے کا موجب بنتے ہیں۔پس مجلس شوری میں ان وساوس سے اپنی حفاظت استغفار کے ذریعے کریں۔ہر قسم کے نفسانی خیال اپنے دل سے نکال پھینکیں اور پھر جب مشورہ دیں تو خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے اور ایسی دعا کرتے ہوئے جس سے آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ راضی ہو جائے ، اللہ کو آپ پر پیار آ جائے ، خدا سے راہنمائی حاصل کریں ، اپنی چالاکیوں پر بنا نہ کریں۔پس ایسی دعاؤں کے ساتھ جن دعاؤں میں ایک قسم کی کشش پیدا ہو جاتی ہے، جن دعاؤں کو خدا پیار سے دیکھے، خدا سے راہنمائی حاصل کریں۔عرض کریں کہ یہ مشورہ تیری خاطر دینے کے لئے حاضر ہوئے ہیں تو ہماری عقلوں کو چمکا اور ہماری زبان میں طاقت پیدا فرما۔ہم اپنی بات کو صحیح طریق پر سمجھانے کے اہل ہوں اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد پھر خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ ر ہیں ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا ہے۔اب ہماری بات چاہے قبول ہو یا نا مقبول ہو۔ہم اسی طرح سلسلہ کے فدائی ہیں اور اسی طرح ہم سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ( البقرہ ۳۸۲) کی روح کے ساتھ سلسلہ کے ہر فیصلے کو قبول کریں گے جس طرح یہ بات کرنے سے پہلے ہم کرتے تھے یا کرتے رہے ہیں۔