خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 340

خطبات طاہر جلد ۱۲ 340 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء میں کہتا ہوں کہ سبحان من یرانی کے مضمون کو پیش نظر رکھیں تو مراد یہ ہے کہ جب سجدہ گاہوں میں جائیں ، جب خدا کی عبادت کے لئے کھڑے ہوں ، جب خدا کے ذکر کی مجالس میں شامل ہوں تو اس وقت کم سے کم Relax نہ ہوا کریں۔اس وقت خدا کے تصور کو پوری طرح حاضر کر کے اپنے انداز کو اور اپنے اطوار کو سجائیں، ان کو زینت دیں، اپنے وجود کو ہر قسم کی شیطانی اداؤں سے محفوظ کر دیں۔یہ مضمون بیان کرنا تھوڑا سا مشکل ہے۔میرے ذہن میں ہے لیکن بعض دفعہ مناسب الفاظ حاضر نہیں ہوتے۔مراد یہ ہے کہ جب خدا کی حضوری کا تصور آپ کے اوپر چھا جائے تو اس وقت انسان دو قسم کی حرکتیں خود بخود کرے گا۔ایک استغفار ہے جس کا مطلب ہے اپنی کمزوریوں کو چھپانا ان پر مٹی ڈالنا اور شرمندگی کا احساس۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ میں ہمیں حضوری کا یہ مضمون بتایا گیا ہے۔انہوں نے جب اللہ تعالیٰ کو سامنے حاضر دیکھ لیا حالانکہ پہلے بھی حاضر تھا۔جب غفلت کا ارتکاب ہو رہا تھا اس وقت بھی خدا حاضر تھا مگر اس وقت غفلت کی آنکھ نے خدا کو ذرا اوجھل رکھا ہوا تھا، جب غفلت کی وہ آنکھ کھلی اور خدا کو قریب دیکھا تو پہلا رد عمل تھا کہ پتوں سے اپنے وجود کو ڈھانپنے لگے یعنی اپنی کمزوریوں پر استغفار کے پردے ڈالے تو ایک تو یہ رد عمل ہے کہ اپنے عیوب کو چھپانے کی کوشش کریں اور اپنی کمزوریوں پر پر دے ڈالیں مگر استغفار کے پردے، ریاء کے پردے نہیں اور دوسرا اپنے آپ کو حسین بنائیں۔دو ہی چیزیں ہیں ، نقائص کو چھپائیں اور اپنی خوبیوں کو چمکائیں اور اجالیں۔پس خدا کے سامنے جب باتیں کریں تو ایسی باتیں کریں کہ خدا کو ان پر پیار آئے۔ایسی باتیں کریں کہ جب آپ دنیا میں اپنے دوستوں کے سامنے باتیں کرتے ہیں تو دوسروں کو بھی آپ پر پیار آتا ہے۔پس دعا کا فن بہت ہی بڑا اور عظیم فن ہے۔اس میں ایک یہ بات بھی داخل ہے کہ باتیں کرتے وقت خدا کا دل پچکارنے کی کوشش کریں۔ایسی ادا بنا ئیں کہ جو خدا کو پسند آ جائے۔چنانچہ بہت سے ایسے لوگ جو دعا کے متعلق مجھے لکھتے رہتے ہیں۔یہ بتاتے ہیں کہ جب بعض دفعہ دل اٹک گیا اور دل پر ایک قسم کا جمود سا طاری ہو گیا۔دعا کرنے کے لئے کوئی اندرونی قوت غیر معمولی جوش نہیں دکھاتی تھی تو اس وقت پھر ہم نے سوچ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے یہ یہ چالاکیاں کیں اور بعض