خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد ۱۲ 338 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۳ء بیلی ہو سکے تو ان میں سے بعض مجلس شوری کے اراکین کو سے بعض مجلس شورای کے اراکین کو سنائیں بھی۔ اس سے انشاء اللہ تعالیٰ ان کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ ابھی پچھلے سال ایک مجلس شوری تحکیم میں منعقد ہوئی۔ وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض پرانے مربی بھی موجود تھے، ہمارے کیپٹن شمیم احمد صاحب بھی بڑے مخلص فدائی اور تجربہ کار احمدی ہیں لیکن مجلس شوری کے وقت میں نے محسوس کیا کہ روایات سے نا واقفیت ہے اور تصور پوری طرح صحیح نہیں ہے کہ مجلس شوری کیا ہوتی ہے، کیسے منعقد کی جاتی ہے ؟ پس شروع میں میں نے ان کو بھی تفصیل سے سمجھایا اور جہاں تک مجھے یاد ہے ان کی ریکارڈنگ ہو چکی ہے۔ اگر وہ ریکارڈنگ تمام ممالک کو نہ گئی ہو تو وہ حاصل کریں۔ اس میں آپ کو بہت سے ایسے امور مل جائیں گے جن کو سمجھے بغیر آپ کو مجلس شوری کا صحیح تشخص نہیں ہو سکتا۔ پتا نہیں لگ سکتا کہ شوری ہے کیا چیز ؟ کس نے مشورہ لینا ہے؟ کس سے لینا ہے؟ مشورے کی حقیقت کیا ہے؟ کس طرح دیا جاتا ہے؟ کیا مشورے کی حیثیت ایسی ہے جیسے دنیا میں پار پارلیمنٹس میں فیصلوں کی حیثیت ہوتی ہے یا اس سے مختلف ہے؟ ان تمام امور پر میں نے اس میں روشنی ڈالی اور وضاحت کی ہے۔ پھر احمدیوں کے لئے نام پیش کرنے کے آداب، مجلس شوری کس طرح منعقد کی جاتی ہے؟ یہ سارے امور بیان کئے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے غالباً سویڈن میں بھی اور انگلستان میں بھی اور ناروے میں بھی ان مضامین پر روشنی ڈال چکا ہوں اور وہ ساری کیسٹس مہیا ہو سکتی ہیں۔ ہی اس تھوڑے وقت میں تفصیل سے میں دوبارہ روشنی تو نہیں ڈال سکتا لیکن یہ بتارہا ہوں کہ ان کیسٹس سے آپ استفادہ کریں ان سے آپ کو مجلس شوری سے متعلق بہت کچھ معلوم ہوگا اور مجلس شوری کی اعلیٰ اقدار کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ باوجود نصیحتوں کے جب میں وہاں موجود نہ ہوں جہاں مجلس شوری منعقد ہو رہی ہے تو کچھ لوگ رستے سے ہٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے میرے سامنے ان کا انداز اور ہوگا اور جب میں ان کو نہیں دیکھ رہا اُن کا انداز اور ہو گا۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک رجحان کی نشاندہی کرنے والی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن تو خدا کے سامنے زندگی بسر کرتا ہے اور خدا ہر جگہ ہے اور ہر وقت دیکھ رہا ہے جب تک یہ رجحان پیدا کر کے ہم اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتے اس وقت تک تقوی کے لباس سے ہم عاری رہیں گے۔ تقویٰ کے بغیر ہماری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور تقویٰ کے مضمون کی جان یہ ہے کہ خدا مجھے دیکھ اور مجھ