خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد ۱۲ 337 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء کہ ان کا ذکر جب آپ پڑھتے ہیں تو خواہ آپ کا ان سے کوئی خونی رشتہ نہ بھی ہو آپ کا دل ان کی محبت میں اچھلنے لگتا ہے۔پس جن کا خونی رشتہ ہے ان کے اوپر تو ان کی مثالیں بہت گہرا اثر کریں گی۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ قرآن کریم کے بیان فرمودہ اس اہم تربیتی نکتہ کو اچھی طرح سمجھ کر ذہن نشین کر کے اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں اور ساری دنیا میں ذکرِكُم ابَاءَكُمْ کا ایک سلسلہ جاری و ساری ہو جائے جو لازماً أو أَشَدَّ ذِكْرًا پر ختم ہو یعنی اللہ کے زیادہ شدید ، زیادہ پُر جوش، زیادہ محبت والے ذکر پر اس کا انجام ہو۔اس کے بعد اب اگر چہ وقت تھوڑ اسا رہ گیا ہے لیکن مجلس شوری سے متعلق کچھ باتیں ضرور کرنی چاہتا ہوں۔میں نے بار بار بیان کیا ہے کہ مجالس شوری خلافت کے بعد جماعت احمد یہ میں سے سب زیادہ اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ خلافت اور شوری یہ دو مضمون ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دینی نظام کی جان ان دو چیزوں میں ہے۔اس پہلو سے میں نے تمام دنیا میں مجالس شوری کے انعقاد پر زور دیا اور کوشش کر رہا ہوں کہ ان کے اوپر نظر بھی رکھوں اور اگر کہیں غلطیاں ہو رہی ہیں تو اپنے سامنے ان کی اصلاح کردوں تا کہ آئندہ صدی میں ہماری طرف سے کوئی غلط روایات آگے نہ پہنچ جائیں اور جہاں تک مجلس شوری کی روایات کا تعلق ہے یہ حضرت مصلح موعود کی خلافت کے ایک بڑے لمبے دور تک پھیلی پڑی ہیں اور بہت ہی قیمتی روایات ہیں۔ان سے شناسائی کے بعد مجلس شوری کا جو تصور دل میں جو جاگزیں ہو جاتا ہے اور ذہن پر نقش ہوتا ہے اس تصور کو میں نے ان مجالس شوریٰ میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے اور کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہا ہوں گا۔مگر میں نے محسوس کیا ہے کہ مجلس شوری پر جب نظر رکھی جائے یا مجلس شوریٰ میں شامل لوگ یہ سمجھیں کہ اس وقت ہم آزادی سے بیٹھے ہوئے ہیں ہم پر کوئی نظر نہیں تو وہ بدکنے کی کوشش کرتے ہیں، رستے سے ہٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور دنیا کی مجالس شوری کی بعض باتوں سے متاثر ہو کر ایسے انداز اختیار کر لیتے ہیں جن کا تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں پس ان کو بار بار سمجھانے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں میں نے جہاں تک یورپ کی مجالس سے خطاب کیا ہے ان کا ریکارڈ موجود ہے۔میری یہ نصیحت ہے کہ مجلس شوری کا جہاں بھی انعقاد ہو اس سے پہلے منتظمین کوشش کریں کہ وہ کیٹیں جن میں مجلس شوری سے متعلق میں نے ہدایتیں دی ہوئی ہیں ان کو خوب غور سے سنیں اور اگر