خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد ۱۲ 339 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۳ء رہا ہے۔سبحان من یرانی - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ نظم ہر بیاہ شادی کے اوپر آپ بار بار سنتے ہیں، جلسوں پر بھی سنائی جاتی ہے اور یہ مصرعہ تو بار باردہرایا جارہا ہے۔سبحان من يراني۔سبحان من یرانی۔پاک ہے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ہے۔آپ یہ سوچا کریں کہ خدا دیکھ رہا ہے اگر مجلس شوری میں شامل ہوتے وقت آپ یہ خیال کریں کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے۔ہمارے اطوار، ہمارے انداز پر اس کی نظر ہے اگر ہم نے کوئی بداخلاقی کی ، اگر کسی طرح اپنے بھائی کا تحقیر سے ذکر کیا، کسی کا دل دکھا یا مشورہ دیتے وقت اپنی انانیت پیش نظر رکھی ، اپنی چالا کی ، اپنا زیادہ علم لوگوں کے سامنے دکھانے اور نمائش کرنے کی کوشش کی تو یہ ساری وہ باتیں ہیں جن کو خداد یکھ تو رہا ہے مگر کراہت کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور اگر اپنے محبوب کی کراہت کی نظر انسان پر پڑے تو اس سے انسان کا وجود دہل جاتا ہے، لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔اسی لئے انسان اپنے پیارے اور اپنے محبوب کے سامنے جس کے جذبات کی اس کے دل میں کچھ قدر ہوا کرتی ہے صاف ستھرا ہو کر بن ٹھن کر جاتا ہے اور اپنے عیوب پر پردے ڈال کر جاتا ہے۔پہلی رات کی سہاگن جب اپنے خاوند کے سامنے جاتی ہے تو اس کو اتنا بنایا سجایا جاتا ہے، اس کے ہر قسم کے عیوب پر پردے ڈالے جاتے ہیں۔ایسے غازے ملے جاتے ہیں جس سے چہرے کے داغ مٹ جائیں وغیرہ وغیرہ۔خدا کے سامنے جو مومن کی روح نے جانا ہے تو اس سے زیادہ حسین سہاگن بن کر جانا چاہئے اور خدا کے سامنے جانے کا مضمون تو یہ ہے سبحان من یرانی۔ہر حال میں اس کے سامنے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر حال میں ہر وقت خدا دکھائی دے نہیں سکتا اور یہ اللہ کا احسان ہے۔اگر ہر وقت دکھائی دے تو مومن کی تو لرزتے لرزتے زندگی ختم ہو جائے۔یہ خدا کی شان ہے کہ وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ہے، اس کا باطن ہونا اس کے بندوں پر بہت بڑا حسان بھی ہے۔اس لئے کہ وہ جب ہٹ جاتا ہے تو اس وقت کچھ تھوڑی سی زیادہ آزادی سی ملتی ہے۔انسان تھوڑا سا Relax ہو جاتا ہے اور جہاں بھی Relax کہتا ہوں تو میرا مطلب ہے وہ لوگ جن کو نیکی کی زندگی بسر کرنے کی پوری عادت نہیں پڑتی وہ بار بار کچھ آرام چاہتے ہیں اور خدا کا باطن یا غائب ہونا ان کو وہ آرام مہیا کر دیتا ہے لیکن ایسے مواقع جو خاص اہمیت کے مواقع ہیں مثلاً نماز کے لئے مسجد میں جانا یا گھر میں نماز پڑھنا یا اہم دینی مجالس میں شامل ہونا ، ان مجالس پر خدا کے حاضر ہونے کا احساس بہت نمایاں ہو جاتا ہے۔پس جب