خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 331

خطبات طاہر جلد ۱۲ 331 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء ہے جو بے وفائی نہیں کیا کرتے۔شاذ کے طور پر بہت ہی کم ارتداد کے کچھ نمونے ان نسلوں میں ملتے ہیں اور وہ بھی اس وجہ سے کہ ان کے اندر دین داخل ہی نہیں ہوا تھا۔دنیا کی خاطر یا کسی اور دھو کے میں آکر وہ دین میں داخل ہوئے ، خالی آئے اور خالی واپس چلے گئے لیکن بہت کم مثالیں ہیں۔بھاری مثالیں وہ ہیں جو آخر وقت تک باوفا ر ہے اور ثابت قدم رہے لیکن آگے نسلوں میں آپ کو وہ بات یا دکھائی نہیں دیتی یا بعض نسلیں دین سے سرک کر دور ہٹ چکی ہیں اور کوئی رابطہ نہیں رہا۔پس آج ضرورت ہے کہ ان کو کھینچ کر واپس لایا جائے اور ان کو خدا کی طرف واپس لانے کے لئے بہترین طریق اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھا دیا ہے ان سے خالی خدا کی بات کر کے دیکھیں ان میں کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔کئی ایسے لوگ ہیں جن سے میرا رابطہ ہو چکا ہے یعنی صوبہ سرحد کے دورے کرتا رہا ہوں، بنگلہ دیش کے دورے کرتا رہا ہوں اور سیالکوٹ وغیرہ کی ایسی کئی دیہاتی جماعتیں ہیں وہاں دوروں پر میں نے رابطہ کر کے دیکھا ہے کہ جو خشک سے ہو چکے ہوں ، جن کے دل بجھ چکے ہوں، جن میں ولولہ باقی نہ رہا ہو۔ان سے براہ راست خدا کے متعلق باتیں کریں، نصیحت کریں کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن اگر ان کو یہ بتائیں کہ تمہارا باپ فلاں تھا اور یہ یہ کیا کیا کرتا تھا۔تمہارے باپ نے احمدیت کے لئے یہ قربانیاں دیں تو ان کی آنکھوں میں ایک شمع سی جلنے لگتی ہے، اچانک ایک جان پیدا ہو جاتی ہے، انہماک پیدا ہو جاتا ہے اور اس ذکر کے ساتھ پھر اللہ کے ذکر کی طرف ان کو منتقل کریں تو وہ بڑے شوق اور ذوق کے ساتھ آپ کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے ان مردہ دلوں کو زندہ کرنے کا ایک راز ہمیں سکھا دیا ہے۔صوبہ سرحد میں خصوصیت کے ساتھ ایسی بہت سی نسلیں پھیلی پڑی ہیں اور پنجاب میں اور بنگال میں اور اس طرح بعض دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں مثلاً یوگنڈا ہے جس میں آج اجتماع ہو رہا ہے وہاں بڑے بڑے، دین کے لئے عظیم الشان قربانی کرنے والے، خدمت دین میں منہمک رہ کر زندگی گزارنے والے وجود تھے اور ان کی تاریخ سے یوگنڈا کی تاریخ روشن ہے لیکن آگے اولادمیں یا ٹھنڈی پڑ گئیں یا کسی وجہ سے پیچھے ہٹ گئیں اور بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے جماعت سے تعلق کلیۂ تو ڑ لیا بعض ایسے ہیں جو ایسا تعلق رکھ رہے ہیں جو گویا نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جب بھی ان سے رابطہ ہوا ہے اُن کے آبا ؤ اجداد کے ذکر سے ان کو واپس آنے کی نصیحت کی ہے تو خدا کے فضل سے نیک اثر پیدا ہوا