خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد ۱۲ 332 خطبه جمعه ۳۰ ر اپریل ۱۹۹۳ء ہے یوگنڈا کے دورہ کے وقت بھی، کینیڈا کے دورہ کے وقت بھی ایسے خاندان مجھے ملے کہ جب ان کے آباء کا ذکر کیا گیا تو ایک دم آنکھیں چمک اُٹھیں اور ایک ذاتی تعلق پیدا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور پھر احمدیت کے ساتھ تعلق ساتھ ساتھ قائم ہوتا چلا گیا تو یہ ایک گر ہے جو قرآن نے ہمیں سکھایا ہے اسے استعمال کریں پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی آئندہ نسلوں کی اعلیٰ اقدار کی حفاظت ہوگی اور وہ اقدار جومٹ چکی ہیں انہیں از سر نو زندہ کیا جا سکے گا۔مثال کے طور پر میں نے صوبہ سرحد کے بعض بزرگوں کے نام پیش نظر رکھے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ صوبہ سرحد کے بزرگوں کا خصوصیت سے ذکر فر مایا اور یہ بیان کیا کہ ان کے علم کے مطابق کوئی اور ایسا صوبہ، کوئی اور ایسا ملک نہیں جس میں صوبہ سرحد کی طرح بڑے لوگوں نے احمدیت کی طرف توجہ کی ہو اور جس کثرت کے ساتھ صوبہ سرحد میں بڑے بڑے لوگوں نے احمدیت کی طرف توجہ کی ہے اور خدمت دین میں اعلیٰ نمونے قائم کیے ہیں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اور مثال دکھائی نہیں دیتی۔اس مضمون کو پکڑتے ہوئے میں آج بعض مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ خصوصیت سے صوبہ سرحد جہاں یہ اجتماع ہورہا ہے ان کو اپنے آباء کا ذکر سن کو خوشی ہو اور طبیعت میں ولولہ پیدا ہو اور وہ اپنی آئندہ نسلوں کو بتائیں کہ ہم کون تھے اور ہماری زندگی کا پانی کن پاک چشموں سے پھوٹا تھا جو رفتہ رفتہ اب دریا بنتا چلا جارہا ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے خاندان پھیلتے پھیلتے اب اس طرح پھیل چکے ہیں کہ سب دنیا میں پھیل چکے ہیں اور مستحکم ہو چکے ہیں۔تو اس رنگ میں اس ذکرِ خیر سے میں امید رکھتا ہو کہ ان کے اندر ایک نئی زندگی پیدا ہوگی اور آج میں نے یہ جو گاؤن پہنا ہوا ہے یہ بھی خصوصیت سے اس وجہ سے پہنا ہے کہ یہ صوبہ سرحد کا گاؤن ہے۔میں نے سوچا کہ ان کو سرحد کی تاریخ یاد کراتے ہوئے گاؤن بھی وہ پہنوں جو ان کو دکھائی دے کہ یہ ہمارے ملک کا ہے اور زیادہ اپنائیت محسوس ہو۔اب میں حضرت مصلح موعوددؓ کا یہ اقتباس آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں آپ فرماتے ہیں۔اس صوبہ میں ( یعنی صوبہ سرحد میں ) بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ احمدی ہوئے ہیں۔پنجاب کے احمدیوں میں اس قسم کا اثر ورسوخ رکھنے والے ہزار میں سے ایک بھی نہیں ( یہ دیکھیں، کتنا فرق نمایاں آپ نے دکھایا )