خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد ۱۲ 330 خطبه جمعه ۳۰ ر ا پریل ۱۹۹۳ء ہی نہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کون تھے، کیا ہوئے۔انہوں نے دین کی خاطر کیا کیا قربانیاں کیں؟ پس پہلے كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ کے مضمون سے بات شروع کریں اور ان نیک لوگوں کے ذکر کو اپنی اپنی مجالس میں زندہ کریں۔اپنی اپنی قوموں میں اُن کے ذکر کو زندہ کریں اور پھر ہر خاندان میں اس ذکر کو زندہ کریں۔پھر جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے یہ ذکر لا ز ما ذکر الہی میں تبدیل ہوگا کیونکہ ان کے ذکر کی تو جان ہی اللہ کے تعلق میں ہے۔یہ وہ پاک نسلیں ہیں جو خدا کی ہو چکی تھیں ان کا خدا کے ساتھ کوئی تشخص دکھائی نہیں دیتا۔اب حضرت صاحبزادہ عبد الطیف صاحب شہید کی بات کریں تو ان کے آباؤ اجداد ، خاندان ، قومیت کا کسی قسم کا کوئی تصور ذہن میں نہیں آتا۔ایک ایسا پاک آسمانی شہر راہ دکھائی دیتا ہے جو کلیۂ خدا کا ہو چکا تھا اور اُس نے اپنے خون کے ایک ایک قطرہ سے اپنی وفا ثابت کی ہے۔اس کو ذِكْرِكُمْ أَبَاء کو کہتے ہیں یعنی مذہبی اصطلاح میں آباء کا ذکر کرنا اور یہ ذکر تو خدا پر ختم ہوتا ہے اور خدا کے علاوہ اس ذکر کی حقیقت کوئی نہیں رہتی، ذکر بنتا ہی نہیں۔ان بزرگوں کا ذکر کر کے ناممکن ہے کہ خدایا دنہ آئے۔پس ان معنوں میں آپ اپنی اگلی نسلوں کی تربیت کریں مجھے پتا ہے کہ تربیت کے لئے بہت سی تقریریں ہوں گی ،مضامین لکھے جائیں گے نصیحتیں ہوں گی مگر ایسی تقریریں اور ایسی نصیحتیں جو علمی لحاظ سے کوشش کر کے تیار کی گئی ہوں اگر ان میں دل نہ ہو تو بے اثر ہوتی ہیں، کوئی اثر پیدا نہیں کرتیں۔کے تیار کی نہ ہوتو پیدا تقریر میں اثر پیدا کرنے کے لئے ایک لگن چاہئے جس میں ایک انسان کا سارا وجود اس مضمون میں شامل ہو جائے جو وہ پیش کر رہا ہے اس کے بغیر زبان میں اثر پیدا نہیں ہوسکتا اور یہ وہ ذکر ہے جو میں بتا رہا ہوں کہ اس ذکر کے ساتھ کوئی زبان بھی اثر کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی۔کسی لمبی چوڑی تیاری اور محنت کی ضرورت نہیں ہے۔صرف تاریخ کے اپنے ان اوراق کو کھولیں اور دیکھیں تو سہی کہ پہلے لوگ کیسے تھے اور کیا تھے؟ کن کن خاندانوں کے بزرگ کن کن قربانیوں کے بعد احمدیت میں داخل ہوئے اور احمدیت میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے کیا کیا قربانیاں دیں، کس طرح وفا کے اعلیٰ نمونے دکھائے ، کس طرح آخری سانس تک وہ خدا کے ہور ہے اور خدا ہی کی خاطر وہ جیئے اور خدا ہی کی خاطر - مرے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے ذکر کو زندہ کرنا ضروری ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا