خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 329

خطبات طاہر جلد ۱۲ 329 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء اس جوش کے ساتھ ٹوٹ جائے گا لرزتے لرزتے یہ منبر ٹوٹ کر زمین پر جا پڑے گا اور ہمیں ڈر تھا کہ آنحضور کو گر کر چوٹ نہ آجائے۔(مسند احمد حدیث نمبر : ۵۳۵۱) تو یہ أَشَدَّ ذِكْرًا کا مضمون ہے جو حدیث سے ہمیں سمجھ آتا ہے یعنی آنحضرت ﷺ کی سیرت سے سمجھ آتا ہے کہ جب خدا کا ذکر آئے تو وہ ساری روح پر قبضہ کرلے اور انسان کے وجود میں ایک غیر معمولی شان اور جلال پیدا ہو جائے۔اس کا وجود خدا کے ذکر سے لرزنے لگے اور ماحول کو لرزہ براندام کرے۔ایسی ریڈیائی لہریں پھیلا دے کہ جن تک وہ لہریں پہنچیں وہ بھی ان سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو کر اسی ذکر کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔یہ ہے جو أَشَدَّ ذِكْرًا کا مضمون ہے۔اس کا جماعت احمدیہ کی موجودہ نسلوں کی تربیت کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے ایسے بزرگ آباؤ اجداد جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یا آپ کے بعد خلافت اولی یا خلافت ثانیہ میں بیعتیں کی تھیں اور غیر معمولی دینی ترقیات حاصل کیں ، غیر معمولی قربانیاں دیں اور ان کا ذکر اگلی نسلیں بھول رہی ہیں اور ان کے ماں باپ بھی اس ذکر کو زندہ نہیں رکھتے نیچے وہ کتابوں کے پھول بنتے جارہے ہیں اور کتابیں بھی ایسی جن کو کم لوگ پڑھتے ہیں۔پس یہ انداز جو ہے زندہ رہنے کا انداز نہیں ہے قرآن کریم نے ہمیں زندگی کا جو راز سمجھایا ہے اس کی رو سے آپ کو اپنے آباؤ اجداد کے ذکر کو لازما زندہ رکھنا ہوگا۔چنانچہ گزشتہ چند سالوں میں میں نے جماعتوں کو بار بار نصیحت کی کہ وہ سارے خاندان جن کے آباؤ اجداد میں صحابہ یا بزرگ تابعین تھے، اُن کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندان کا ذکر خیر اپنی آئندہ نسلوں میں جاری کریں مگر افسوس ہے کہ ابھی تک کما حقہ توجہ نہیں دی گئی۔مجھ سے جو خاندان ملنے آتے ہیں۔ان بچوں سے جب میں پیار کی باتیں کرتا ہوں تو بسا اوقات یہ بھی پوچھا کرتا ہوں کہ تمہارے دادا کا نام کیا ہے؟ تمہارے نانا کا نام کیا ہے؟ پس وہ ابوامی یا می ڈیڈی تک ہی رہتے ہیں اور آگے نہیں چلتے۔یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔ماں باپ بھی سنتے ہیں تو اُن کے چہرے پر ہوائیاں نہیں اُڑتیں بلکہ ہنس پڑتے ہیں کہ دیکھو جی اس کو تو اپنے نانا کا نام نہیں پتا، اپنے دادا کا نام نہیں پتا۔یہ کوئی لطیفہ تو نہیں۔یہ تو المیہ ہے یہ تو بہت ہی درد ناک بات ہے ان کو تو یہ بات دیکھ کر لرز جانا چاہئے تھا کہ جن کے ذکر کو زندہ رکھنا حقیقت میں ضروری ہے جو آئندہ اُن کے اخلاق کی حفاظت کرے گا ان کے ذکر سے تو یہ لوگ غافل ہیں ان کو پتا