خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 328
خطبات طاہر جلد ۱۲ 328 خطبه جمعه ۳۰ / اپریل ۱۹۹۳ء ذِكرِكُمْ ابَاءَكُم کا مضمون ایک اور رنگ اختیار کر جاتا ہے یہ ذکر ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے آباء کا ذکر ملتا ہے، ابراہیم کا ذکر ملتا ہے ، نوح کا ذکر ملتا ہے۔آدم کا ذکر ملتا ہے اور ابراہیم کے بعد نسلاً بعد نسل اُن اولا دوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنے آباء کے ذکر کی حفاظت کی تھی پس یہ ذکر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ اس طرح مل جاتا ہے جیسے دو چیزیں ایک دوسرے میں پیوست ہو کر یک جان ہو جائیں اور ایک کا دوسرے سے فرق نہ رہے تو اپنے بزرگ آباء کے حوالے سے اپنی اعلیٰ روایات کو زندہ رکھو اور ذکر الہی میں اور بھی زیادہ شدت اختیار کر جاؤ۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نصیحت کا یہی طریق تھا۔بزرگوں کے حوالے سے ، نیک لوگوں کے حوالے سے نصیحت فرمایا کرتے تھے اور بزرگ آباء کے ذکر کو تفاخر میں شمار نہیں فرماتے تھے بلکہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔چنانچہ ایک موقع پر جب آپ کی دو ازواج مطہرات میں کچھ اختلاف ہوا اور ایک نے دوسری کو طعنہ دیا کہ تم تو یہودن ہو، یہودی نسل سے ہو۔حضرت محمد مصطفی اللہ کے حضور جب شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا تم کیوں غم کرتی ہو تمہیں یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ میرا خاوند بھی خدا کا رسول ہے اور میرے باپ دادے بھی خدا کے رسول تھے، تر مندی کتاب المناقب حدیث نمبر : ۳۸۲۹) تم مجھے کیا طعنہ دیتی ہو۔یہ ذِكُرِكُمْ آبَاءَكُم کی ایک مثال ہے یعنی بزرگوں کا ذکر جن کا تعلق خدا سے باندھا گیا ہو۔تفاخر میں داخل نہیں ہے اور مومنوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ ایسا ہی ذکر کیا کریں اور وہ ذکر خود بخودخدا کی طرف لے جاتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے ذکر کے انداز میں آپ کو بڑے بڑے نامور عرب لوگوں کا کہیں کوئی ذکر دکھائی نہیں دے گا، کہیں کوئی ذکر نہیں ملے گا۔وہ بڑے بڑے عرب راہنما اور ہیر واور بڑے بڑے سردار جن کے ذکر سے عربی شاعری اٹی پڑی ہے ان کا کوئی ذکر آپ کو حضرت صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان سے آپ کو نہیں ملتا۔ان آباء کا ذکر ملتا ہے جن کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے جن کا خدا سے تعلق تھا اور وہ ذکر لازماً اللہ کے ذکر کی طرف لے جاتا ہے أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا بن جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ جب خدا تعالیٰ کے ذکر پر خطاب فرمایا کرتے تھے تو بعض دفعہ اتنا جوش پیدا ہو جاتا تھا کہ ایک موقع پر جبکہ خدا تعالیٰ کی صفات جلال و جمال کا ذکر فرمارہے تھے تو منبر کانپنے لگا جس پر آپ کھڑے تھے اور روایت کرنے والے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ڈر تھا کہ یہ منبر الله