خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد ۱۲ 317 خطبه جمعه ۲۳ اپریل ۱۹۹۳ء صلى الله واسه ۔ میں اُس علاقے کے سردار نے آنحضور ﷺ کے پیچھے گلیوں کے چھو کرے لونڈے لگا دیئے۔ اُن کی جھولیوں میں پتھر تھے، زبانوں میں گندی گالیاں تھیں ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں علیہ میں صلى الله صلى الله الله اپنے شہر سے ایسے نکالا ہے کہ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو چکے تھے اور دل زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ چلنا اس لئے مشکل تھا کہ جوتی میں اپنے ہی خون کا کیچڑ سابن گیا تھا۔ چلتے ہوئے پاؤں پھسلتا تھا۔ ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس فرشتے بھیجے اور فرمایا کہ اگر تو چاہتا ہے تو خدا غضبناک ہے ان کی حالت پر اور اگر تو چاہے تو وہ فرشتے جو اس پہاڑ کے فرشتے ہیں ان دو پہاڑوں کے درمیان وادی سی ایک جگہ میں واقعہ تھا شہر ۔ ان پہاڑوں کو اکٹھا کر دیں گے اور ہمیشہ کے لئے یہ بستی نابود ہو جائے گی یعنی مراد ہے کہ ایسا خوفناک زلزلہ آ سکتا ہے خدا کے ایسے فرشتے جو زلزلے کی طاقتوں پر مامور ہیں اُن کو اللہ اجازت دے تو ہمیشہ کے لئے ہی بستی نابود ہو جائے گی۔ اگر آنحضور ﷺ کے دل میں ذرا بھی غصے کا رد عمل ہوتا تو اُس موقع پر آپ ﷺ فرماتے کہ اے اللہ ! ان کو ہلاک کر دے، زندہ رہنے کے لائق نہیں ۔ بعض روایات میں ایک لمبی دعا ملتی ہے۔ ایک یہ بھی دعا ملتی ہے کہ اللهم اهد قومى فانهم لا يعلمون بعض روایات میں اس دعا کا تعلق بدر یا احد کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ مجھے اس وقت صحیح یاد نہیں لیکن ایک اور جنگ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے اس تعلق میں بھی اسی دعا کا ذکر کیا تھا۔ چنانچہ میں نے تحقیق کروائی تو پتا چلا کہ یہی دعا اس طائف کے موقع پر بھی آنحضرت ﷺ نے کی تھی یعنی اے خدا یہ جانتے نہیں ہیں اس لئے ان کو معاف فرما، اس لئے درگز رفر ما لیکن میری التجا یہ ہے کہ احد قومی میری قوم کو ہدایت دے دے، ہلاک نہ کر ۔ پس ایسے غم کی حالت میں جبکہ انسان کے دل کی کیفیت پر نظر ڈال کر اُس کی خاطر خدا غضبناک ہو رہا ہو۔ اُس وقت بندے کا رحم ، بندے کے عفو کا سلوک اللہ تعالیٰ کے غضب کو رحمت میں تبدیل فرما دیتا ہے۔ اُس وقت جو دعا اٹھتی ہے وہ اُس قوم کے لئے رحمت بن جایا کرتی ہے۔ پس نصیحت اس جذبے سے کریں کہ جس کے لئے آپ نصیحت کرتے ہیں اگر وہ نہیں سنتا تو آپ کو دکھ محسوس ہو، آپ کا دل غم سے بھر جائے۔ پس اس موقع کے لئے قرآن کریم وہ آیت سامنے آکھڑی ہوتی ہے۔ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة که مدد مانگو صبر کے ساتھ اور صلوٰۃ کے ساتھ۔ پس آپ نے اگر نصیحتیں کرنی ہیں اور نصیحتوں کے ذریعے دنیا میں ایک کی