خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد ۱۲ عظیم انقلاب بر پا کرنا ہے۔318 خطبه جمعه ۱/۲۳ پریل ۱۹۹۳ء تو پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے رحمت کے ساتھ نصیحت کریں جب بھی نصیحت میں غصہ شامل ہو جایا کرے اپنی نصیحت تھوک دیا کریں کیونکہ وہ نصیحت زہریلی نصیحت ہے۔کوئی اثر نہیں دکھائے گی۔اُس سے سوسائٹی اور بھی گندی ہو جائے گی یہ ایسی نصیحت ہوگی جیسے کسی کو کہا جائے اوچل چھوکری اب حیا کر بے حیاؤں کی طرح پھر رہی ہے۔دوپٹہ تو سر پر رکھ، ایک یہ کہنے کا انداز ہے اور ایک کہنے کا یہ انداز ہے کہ کسی ایسی بچی کی حالت پر انسان کا دل کڑھے اور اُس میں رحم کا جذبہ پیدا ہو، اُسے سلیقے اور پیار کے ساتھ سمجھایا جائے کہ بی بی یہ اچھی چیز ہے کہ انسان اپنے سر کو ڈھانپ کر رہے یہ ہمارے معاشرے کی اچھی خوبی ہے۔ان کی حفاظت کرو۔دو کہنوں کے انداز میں بڑا فرق ہے۔پہلی بات نفرت کے منبع سے پھوٹتی ہے یعنی کسی کو غلط کمزور حالت میں دیکھ کر غصے کا اظہار تحقیر کے کلمات کہنا۔اُس کے دل کو دکھانے کی کوشش کرنا۔اپنے بدلے اتارنا، نہ کہ اُس کی اصلاح کا خیال رکھنا۔اپنے بدلے سے مراد یہ ہے کہ بعض لوگ کسی نہ کسی معاملے میں احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں اور معاشرے میں جولوگ اچھے رہتے ہیں اُن کے خلاف غصہ رہتا ہے اور وہ دیکھ نہیں سکتے۔بعض دفعہ شریکے کی بھی دشمنیاں ہوتی ہیں۔پس وہی برائی میں نے دیکھا ہے کہ گھر میں اپنی بچیوں میں دکھائی دے تو وہ رد عمل نہیں ہوتا ہے میں نے جس کی مثال دی ہے۔اگر دوسرے کی بچی میں دکھائی دے یا اس معاشرے کے اُس طبقے میں دکھائی دے جو اُن سے بہتر حال میں ہے۔تو بڑا زہریلا تبصرہ ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں ہم نے نصیحت کر دی۔یہ نصیحت کا طریق نہیں ہے۔رحمت کے ساتھ نصیحت کریں گے تو اُس میں غصے کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔رحمت کے ساتھ نصیحت کریں گے تو اگلا نہیں مانے گا تو کیا پیدا ہو گا وہ غم ، جس کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ اُس کے غم میں تو ہلاک ہور ہا ہے اور یہ غم جو ہے یہ صبر ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا گیا ہے۔اس غم کے نتیجے میں انسان کچھ کر نہیں سکتا۔کچھ پیش نہیں جاتی ، زبردستی کر نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصيطر ( الغاشية: (۲۳) فَذَكَّرُ اِنْ نَّفَعَتِ الذِكراى نصیحت تیرا کام ہے اور تجھے ہم نے داروغہ مقرر نہیں فرمایا ہوا۔جب انسان بے بس ہو وہ صبر کا مقام ہے۔بے اختیاری سے ایک صبر