خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 24

خطبات طاہر جلد ۱۲ 24 لله خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء جہاں تک غیر احمدی مسلمانوں کا تعلق ہے ان کے متعلق بھی ہر جگہ سے یہی خبریں مل رہی ہیں کہ جو ایک دفعہ آجائے پھر وہ نہیں چھوڑتا اور بار بار آتا ہے اور بعض لوگ تو جماعت احمدیہ کی آنحضرت ﷺ کی محبت سے اتنا غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں کیونکہ کسی نہ کسی خطبہ میں کسی نہ کسی تعلق میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کا ذکر چل پڑتا ہے تو سچی آنکھیں سچائی کو پہچان لیتی ہیں سوائے اس کے کہ کوئی جھوٹ سے اپنی آنکھوں کو مسخ کر دے، یہ ہوہی نہیں سکتا کہ ایک سچی آنکھ سچائی کو نہ پہچان سکے۔اللہ تعالیٰ نے اکثر انسانوں کو دراصل بچی آنکھیں ہی دی ہیں وہ خود اپنی آنکھوں کو مسخ کرتے ہیں اور جان بوجھ کر جھوٹ دیکھتے ہیں مگر ساتھ ساتھ سچائی کی آواز بھی پہنچتی ہی چلی جاتی ہے۔پس جن جن آنکھوں نے احمدیوں کو دیکھا ہے اور قریب سے دیکھا ہے اگر وہ اللہ کے فضل کے ساتھ مسخ شدہ آنکھیں نہ ہوں تو وہ یہ پیغام اپنے دماغ کو پہنچاتی ہیں کہ یہ محمد رسول اللہ ﷺ کے عاشقوں کی جماعت ہے اور یہی پیغام ہر طرف سے آرہے ہیں بعض غیر احمدیوں کی اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں بھی مل رہی ہیں۔تو اس سلسلہ کو اللہ کے فضل کے ساتھ آپ اور زیادہ عام کرنے کی کوشش کرتے چلے جائیں اور ہو گا تو سہی کیونکہ میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کی تقدیر ہے جس نے جماعت کو اس نئے دور میں داخل کیا ہے اور یہ سلسلہ اب پھیلنا ہی پھیلنا ہے دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی، ہوا کے رخ پر چل کر اس کی مدد کریں تو مفت کا ثواب حاصل ہوگا۔اب میں اس مضمون کی طرف واپس آتا ہوں جسے مکمل کئے بغیر میں نے مجبور ا چھوڑ دیا تھا کہ وقت ختم ہو گیا تھا جب جماعت احمد یہ سب دنیا کے غم کی باتیں کرتی ہے۔سب دنیا کے فکر، دل سے لگا کر ان کی اصلاح کی کوشش کرتی ہے تو بہت سے لوگ تعجب کرتے ہیں کہ ان کی حیثیت کیا ہے، طاقت کیا ہے، یہ کیسے دنیا کے حالات بدل سکتے ہیں اور بہت سے احمدی دانشور بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہاں سمندر میں ایک قطرہ زائد ڈالنے والی بات ہے ورنہ تو کوئی حیثیت نہیں ہے اور بعض یہ بھی سوچتے ہوں گے کہ ہمیں وہ کام سہیڑنے کی ضرورت کیا ہے جس کام کی ہم میں طاقت نہیں ہے تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ہماری فطرت میں اگر یہ بات ہو کہ کسی کا غم محسوس کریں اور کسی کا دکھ دور کرنے کی کوشش کریں تو ہم تو مجبور ہیں اس میں عقل کا قصہ نہیں دل کی مجبوریوں کی بات ہے۔ایک شخص جو ہمدرد ہو وہ کسی جگہ کسی کو تکلیف میں دیکھتا ہے تو طبعا اس کے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور بے اختیار