خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 23
خطبات طاہر جلد ۱۲ 23 23 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء کئے جاتے ہیں آواز کے شش جہت میں پھیلنے کا محاورہ میرے علم میں نہیں آیا کہ پہلے بھی استعمال ہوا ہو لیکن اس وقت بغیر سوچے یعنی بغیر کوشش کے کہ میں کیا کہ رہا ہوں یا کہنا چاہتا ہوں،شش جہت کا لفظ مجھے اچھا لگا اور وہی محاورہ منہ سے نکلا اور اب ٹیلی ویژن کے ذریعے شش جہات ہیں جو استعمال ہو رہی ہے کیونکہ چاروں طرف کا سوال نہیں ہے آواز اور تصویر پہلے اوپر آسمان کی طرف جاتی ہے پھر آسمان سے زمین کی طرف مڑتی ہے پھر چاروں طرف پھیلتی ہے تو خدا تعالیٰ نے شش جہات کے لفظ بھی پورے فرما دئیے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ بعض دفعہ تصرفات کے تابع بعض کلمات انسان کے منہ سے نکلتے ہیں اور خود کہنے والے کو ان کی کنہ کا علم ہی نہیں ہوتا کہ میں کیوں کہ رہا ہوں اور بعد میں یہ بات کیا بن کر نکلے گی ، تو یہ اللہ کے احسانات ہیں۔میں تمام دنیا کی جماعتوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جن کمزوروں کے دل میں ایک اچنبھے کی خاطر ہی سہی، تعجب کی وجہ سے ہی سہی ، ایک شوق تو پیدا ہوا ہے کہ مجھے ٹیلی ویژن کے ذریعہ سے دیکھیں اور سنیں اگر وہ ایک دو دفعہ سن کر واپس چلے جائیں تو ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جو آئے وہ مستقل آجائے جو ہمارا ہو ہمارا ہو کر رہ جائے ، آکر چلے جانے والوں سے ہمیں کوئی مقصد، کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔دل میں بڑی تمنا یہ ہے کہ ساری جماعت ایک مرکز کے گرد اس طرح اکٹھی ہو جائے جس طرح شہد کی مکھیاں شہد کی ملکہ کے گرد اکٹھی ہوتی ہیں اور اپنی الگ زندگی کا تصور ہی نہیں کر سکتیں اور الگ زندگی میں وہ Survive نہیں کرسکتیں یعنی ان کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں۔اکیلی اکیلی مکھی لازماً مر جایا کرتی ہے۔تو یہی روحانی جماعتوں کا حال ہوتا ہے تبھی حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے مرکزیت پر اتنا زور دیا ہے کہ دنیا کے کسی مذہب میں اتنا زور نہیں دیا گیا۔پس جو بکھرے بکھرے احمدی ہیں، جو کناروں پر چلے گئے ، جن کا مرکز سے تعلق کمزور ہو گیا ، اب بہت اچھا موقع ہے کہ جب وہ ایک دفعہ آجائیں تو ان کو اپنا لیا جائے ، ان سے محبت اور پیار کا سلوک کیا جائے، آئندہ اگر وہ نہ آئیں تو ان کو بلانے کے لئے آدمی بھیجے جائیں اور اسی طرح اور کمزوروں کی تلاش کی جائے کہ جہاں جہاں کوئی کمزور ہے وہاں اس تک پہنچ کر اسے یہ تحریک کی جائے کہ ایک دفعہ آجاؤ دیکھ تو لو اور پھر میں امید رکھتا ہوں کہ جو رفتہ رفتہ آجائے وہ پھر خدا کے فضل سے آہی جاتا ہے۔