خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 25

خطبات طاہر جلد ۱۲ 25 25 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۹۳ء الله قدم اس طرف اٹھتے ہیں تاکہ اس کی تکلیف کو دور کیا جائے ہمیں تو اس سے بہت زیادہ بڑھ کر بنی نوع انسان سے محبت ہے اس لئے کہ ہم حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے غلام ہیں ہم ان لوگوں کے غلام نہیں جن کو دنیا کی جو فکر ہے وہ لطیفے کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔اردو میں ایک محاورہ ہے چھیڑنے کی خاطر کہتے ہیں کہ قاضی جی تم دبلے کیوں ہو گئے ہو جواب دینے والا جواب دیتا ہے شہر کے اندیشے میں اور سارے ہنستے ہیں کیونکہ لطیفے کا پیغام یہ ہے کہ تمہیں اس سے کیا دنیا مرتی ہے تو مرتی پھرے تم کیوں پاگل ہوئے ہوئے ہو یعنی ایسا قاضی جو شہر کے اندیشے میں دبلا ہو جائے اس کے ساتھ رونے کی بجائے اس پر ہنسا جاتا ہے لیکن ہم کسی ایسے قاضی کے غلام نہیں ہیں ہم تو اس آقا محمد مصطفی ملنے کے غلام ہیں جس نے کل عالم کے اندیشے دل کو لگا رکھے تھے جن کے متعلق خدا آسمان سے بار بار گواہی دیتا تھا کہ اس دنیا کے غم میں تو اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا۔پس اگر حضرت اقدس محمد رسول اللہ سے کسی کو سچا پیار ہے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ دنیا کے اندیشے دل کو نہ لگا بیٹھے یہ اس کے لئے فطرت کا ایک طبعی تقاضا ہے، اس کے سوا کوئی طریق کار ہی میسر نہیں ہے۔پس اگر احمدی حضرت صلى الله اقدس محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں سچا ہے تو اسے لازما یہ اندیشے دل کو لگانے ہوں گے بلکہ اس کے بغیر اس کا محمد رسول اللہ اللہ سے تعلق ہی سچا ثابت نہیں ہو سکتا۔پس یہ مجبوریاں ہیں ہم نے تو یہ کام کرنا ہی کرنا ہے ہمیں تو دنیا کی کوئی طاقت اس کام سے روک نہیں سکتی لیکن سوال یہ ہے کہ جو کام اپنی طاقت سے بڑھ کر ہو اس میں طریق کار کیا ہونا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ کوئی کام بھی کسی انسان کی طاقت سے بڑھ کر نہیں ہے اگر عقل اور فہم کے ساتھ اس کام کی اونچ نیچ کو سمجھا جائے اس کے سارے مسائل پر نظر رکھ کر صحیح تجزیہ کیا جائے تو خدا تعالیٰ نے ہر انسان میں یہ طاقت عطا فرمائی ہے کہ وہ پھیلا کر اپنی خوبیوں کو تمام دنیا تک عام کر دے یہ نکتہ مجھے نبوت سے سمجھ آیا، ایک نبی کو خدا کھڑا کرتا ہے، ساری قوم کے حالات اس نے بدلنے ہوتے ہیں، ایسی قوم کے حالات اس نے بدلنے ہوتے ہیں جو نیکی کو قبول کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہو رہی ہوتی ، جو ہر پھول کے بدلے پتھر مارنے پر تیار ہو۔اب اگر دنیا کی اس منطق کو اس پر لگا کر دیکھیں جس کی میں بات کر رہا ہوں کہ تم تھوڑے سے کمزور سے لوگ ہو، تمہیں دنیا کے غم سہیڑ نے کی مصیبت کیا پڑی ہے اور سہیرہ بھی لوتو کر کیا سکتے ہو -