خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد ۱۲ 239 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء لئے ضرور کچھ معلوم ہونا چاہئے۔کیسے ہم اتنی اہم ذمہ داری کا حق ادا کر سکیں گے اور کیسے ہم ان اعلیٰ اقدار کی حفاظت کر سکیں گے، اس مضمون کو یہ آیت کریمہ یوں حل فرماتی ہے۔تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ تمہاری خوبیوں کی بقا کا تقاضا یہ ہے کہ تم مسلسل ایک دوسرے کو بھلائی کی طرف بلاتے رہو اور بھلائی کی دعوت دیتے چلے جاؤ۔وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور بُرائیوں سے روکتے چلے جاؤ۔یہ اس طرح بیان نہیں فرمایا یہ تم کرتے ہو۔تم بھلائیوں کی طرف بلاتے ہو اور بدیوں سے روکنے والے ہو کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں شامل ہونے کاطبعی تقاضا ہے۔اس لئے اسے ایک جاری فعل کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے۔تم اگر رسول اللہ کے غلام ہو تو تم یہ کرتے ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تم نہ کرتے ہو، نہیں کرتے تو غلام رہنا ہی نہیں باقی۔یہ مضمون اس طرح بیان فرماتا ہے کہ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ہم جانتے ہیں محمد رسول اللہ کے غلام ہو تم ضرور خیر کی طرف بلاتے ہو گے۔وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور بُرائیوں سے روکتے ہو گے۔ساری زندگی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی مامور ہونے کے بعد اسی بات میں کئی ہے، مامور ہونے سے پہلے بھی آپ اسی طرح زندگی گزارتے ہوں گے مگر اس پر ہماری تفصیلی نظر نہیں ہے۔مگر جہاں تک بھی کہیں کہیں اشارے ملتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ نبوت پر فائز ہونے سے پہلے بھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نیکیوں کی طرف بلایا کرتے تھے ، بدیوں سے روکا کرتے تھے۔پس سیرت محمد مصطفی یہ ہے جو مسلسل جاری ہے اور دراصل اسی کے حوالے سے یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ تم ان کے ہو گئے ہو تو ٹھیک ہے بہترین امت بن گئے۔بہترین رسول یہ کی طرف منسوب ہوئے۔پھر ویسے بن کے دکھاؤ۔لوگوں کے لئے وقف ہو جاؤ، لوگوں کی بھلائی کے لئے نکلو۔دو باتیں پھر آگے خصوصیت کے ساتھ اس آیت کے بقیہ حصہ میں بیان ہوئی ہیں جو میں آپ کے سامنے پڑھ رہا ہوں۔اوّل یہ کہ اگر تم اپنی نیکیوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہو تو لازم ہے کہ تم دوسروں کو نیکیوں کی نصیحت کرو۔اگر تم بدیوں سے بچے رہنا چاہتے ہو تو لا زم ہے کہ تم اپنے آپ کو بدیوں سے نہ صرف بچاؤ بلکہ لوگوں کو بچانے کی کوشش کرو۔تب تم اس بات کا تقاضا پورا کر سکو گے۔دوسرے یہ کہ ماحول کو درست کئے بغیر انسانی خوبیوں کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں۔اگر آپ اجنبی ماحول میں رہتے ہیں اور اس ماحول کو اپنے جیسا نہیں بناتے تو ایک وقت آتا ہے کہ ماحول آپ