خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 238
خطبات طاہر جلد ۱۲ 238 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء یہاں ٹھہر کر اُس مضمون میں ڈوب کر ، ہر طرف اس کی فضا میں اڑتے ہوئے نئے افق اُس میں دیکھتے، نئے افق میں اپنے چہرے دیکھتے اور بہت وسیع عظیم مضمون ہے جو كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ مجھے علم نہیں کہ کبھی بھی کسی دوسرے نبی کے کلام میں یہ جملہ آیا ہو کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ۔پھر آگے فرمایا اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اس میں خیر کا فلسفہ بیان فرما دیا اور باتوں کے علاوہ جو پہلے مضمون میں داخل ہیں۔فرمایا اس لئے تم خیر امت ہو کہ بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔اُن کی خدمت کے لئے، اُن کی خاطر ، اُن کے فوائد تم سے وابستہ ہیں۔اُن کی بقا تم سے وابستہ ہے۔یہ دراصل وہی مضمون ہے جو حضرت رسول اکرم ﷺ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور اسی حوالے سے آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ (الانبیاء: ۱۰۸) کا مضمون ہے۔جس کی یاد دہانی امت کو کروائی جا رہی ہے۔ایک تو اپنی ذات اور اعلیٰ صفات میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺہ وہ کامل وجود ہیں اُن کی طرف منسوب ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس منسوب ہونے کے تقاضے ہیں۔اس لئے تم میں خیر ہی خیر ہوگی ، تو تم محمد رسول اللہ ہی اللہ کے کہلاؤ گے، جہاں خیر کی جگہ شر نے لے لی تمہارا امت سے تعلق کاٹا گیا۔پھر فرمایا صرف اندرونی خیر کا سوال نہیں ہے۔آپس میں محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ اخلاقی تقاضے پورا کرنے کا سوال نہیں ہے۔أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یہاں مومن اور غیر مومن ،مسلم اور غیر مسلم کا فرق اٹھا دیا۔صلى الله صلى الله لِلنَّاس والا مضمون وہی ہے جو حضرت رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے قرآن میں ملتا ہے۔قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيْعًا (الاعراف: ۱۵۹) اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔مانو یا نہ مانو۔تمہاری بقا، تمہاری خیر ، تمہاری بھلائیاں سب مجھ سے وابستہ کر دی گئی ہیں۔رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ میں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنایا گیا۔فرمایا تم اس لئے بہترین امت ہو کہ لوگوں کی بھلائی کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ کا یہ پہلو فراموش نہ کرنا ورنہ آپس میں اگر خیر بانٹتے رہوگے اور غیروں کو تمہارا خیر نہیں پہنچے گا کہ تم بہترین امت کہلانے کے لائق نہیں ٹھہرو گے۔پھر اس مضمون کی حفاظت کا سامان مہیا فرمایا گیا۔اتنا بڑا تقاضا ہے، اتنی بڑی تمنا ہے، اتنی بڑی امید ہے جو ہم سے رکھی گئی ہے۔اس امید کا اتنا بڑا تقاضا ہے جو ہم نے پورا کرنا ہے۔اُس کے