خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 240

خطبات طاہر جلد ۱۲ 240 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء کو اپنے جیسا بنا لیتا ہے۔بہت ہی گہرا مضمون ہے جس میں ایک گہرا نفسیاتی نکتہ بیان ہوا ہے۔قوموں کے عروج اور تنزل کی کہانیاں آپ پڑھ کر دیکھ لیں، معاشروں کے بننے اور بگڑنے کے حالات کا مطالعہ آپ کر لیں۔وہ تو میں اور وہ معاشرے جو تا ثیر رکھتے ہیں اور اردگرد پھیلتے چلے جاتے ہیں۔وہ اس وقت تک زندہ رہتے ہیں جب تک یہ تاثیر زندہ ہے جب ان کا پھیلنا بند ہو جائے۔اُن کی آواز ماحول کو اپنے جیسا بنانا بند کر دے، ان کا عمل لوگوں کو اپنی طرف کھینچنا بند کر دے تو پھر وہ غیروں کے ہونے شروع ہو جاتے ہیں، ان جیسے ہی ہو رہتے ہیں۔پس یہ بحث کسی قوم سے تعلق نہیں رکھتی۔یہ انسانی فطرت سے تعلق رکھتی ہے۔دنیا میں جہاں کہیں بھی احمدی موجود ہیں امریکہ میں ہوں یا انگلستان میں۔یورپ کے کسی ملک میں ہوں یا ایشیا کے براعظم میں یا افریقہ میں بستے ہوں یہ مضمون برابر سب پر اطلاق پاتا ہے اور اس میں ہماری بقا کا راز ہمیں سمجھا دیا گیا ہے۔اگر ہم نے زندہ رہنا ہے، اگر ہم نے ان اعلیٰ قدروں کی حفاظت کرنی ہے جو ہمارا عنوان بنا دی گئی ہیں جن کا آغاز اس طرح ہوا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تو پھر لازم ہے کہ ہم دو کام کریں یعنی دو پہلوؤں سے یہ کام کریں تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اس لئے حضرت محمد رسول اللہ ہے ایسا ہی کیا کرتے تھے اور بہترین ہونے میں یہ بات داخل ہے یعنی بہترین کی صفت کا یہ حصہ ہے کہ تم لوگوں کو بھی بہترین بنانے کی کوشش کرو اور دوسرے اس لئے کہ اگر نہیں کرو گے تو تم بہترین نہیں رہو گے۔تم مٹ جاؤ گے تمہاری ساری خوبیاں اس طرح کھائی جائیں گی جس طرح کھاری پانی لو ہے یا دوسرے غیر ٹکڑوں کو رفتہ رفتہ کھا جاتا ہے اور ان کا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتا ، جس طرح تیزاب دوسری چیزوں کو کھا جایا کرتے ہیں۔اس طرح معاشرہ تمہیں کھا جائے گا۔وَلَوْ أَمَنَ اَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ أَكْثَرُهُمُ الْفُسِقُونَ اہل کتاب بہت اچھے لوگ ہیں لیکن کاش وہ سمجھتے کہ محمد رسول اللہ الا اللہ پر ایمان لانا کیسی عجیب بات ہے، کوئی نسبت ہی نہیں۔کاش وہ سمجھتے کہ دنیا کا بہترین رسول آچکا ہے۔وہ رسول آچکا ہے جس سے ساری دنیا کی تربیت وابستہ کر دی گئی ہے اگر یہ سمجھتے تو لگان خَيْرًا لَّهُمْ اس رسول پر ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہت بہتر ہوتا۔اس میں ایک انذار ہے اور وہ انذار یہ ہے کہ اہل کتاب ان قدروں سے محروم ہو جائیں