خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 220

خطبات طاہر جلد ۱۲ 220 خطبہ جمعہ ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء جب پذیرائی نہ دیکھی ، جب ان کی درخواست قبول نہیں ہوئی تو اپنی ملازمتوں سے استعفے دے دیئے اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو بہتر ملازمتیں عطا کر دیں۔زیادہ رزق والی اور زیادہ عزت والی اور پھر اُن کے افسروں نے شروع میں ہی یہ شرط رکھ دی کہ جمعہ کے دن تمہیں آزادی ہے ، آزادی سے جا کر جمعہ پڑھو اور پھر واپس آؤ۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈش انٹینا کے ذریعے جمعوں کے مراکز کی تعداد بہت زیادہ بڑھائی جاسکتی ہے۔نظامِ جماعت کی طرف سے بکثرت ایسے مراکز مقرر ہو سکتے ہیں جہاں بڑے شہروں میں مسجد تک پہنچنا اگر وہاں مسجد قائم ہے، بہت ہی دو بھر ہے یا تکلیف مالا يطاق ہے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف ہے وہاں جماعتی نظام کے تحت بہت سے مراکز قائم ہو سکتے ہیں جہاں اگر وقت جمعہ کا ہے تو ڈش انٹینا کے ذریعے خطبہ سنیں اور اپنا جمعہ الگ ادا کریں۔اگر وقت نہیں ہے تو مقامی امام مقرر کر دیئے جائیں جہاں اردگرد کے لوگ ملازمتیں کرنے والے یا کاروبار کرنے والے اکٹھے ہو جایا کریں تو اس سال اور آئندہ آنے والے سال جمعہ کا اس طرح استقبال کریں کہ سارے سال جمعے سے چمٹ جائیں۔وہ لوگ جو نمازیں پڑھتے ہیں اُن کا جمعے سے ایک ایسا تعلق قائم ہو جاتا ہے کہ جمعے کے بغیر چین نہیں آتا۔ایک دوسرے قسم کے لوگ ہیں جن کا جمعے سے تعلق براہ راست ہوتا ہے یعنی نمازیں پڑھنے کی توفیق تو نہیں پاتے مگر جمعہ کی اہمیت کے پیش نظر جمعہ میں حاضر ہو جاتے ہیں۔جیسے آج جمعۃ الوداع میں بہت سے لوگ شامل ہوئے ہیں جو پہلے مسجدوں کے منہ نہیں دیکھتے۔اُن کو اس جمعۃ الوداع کی برکت سے نمازیں نصیب ہو جایا کرتی ہیں، جمعۃ الوداع کی برکت سے دوسرے جمعے نصیب ہو جاتے ہیں یا ہو سکتے ہیں اور ہر جمعے کی برکت سے نمازیں نصیب ہو سکتی ہیں۔پس نمازیں جمعے کی طرف لے جانے والی ہیں اور جمعہ نمازوں کی طرف لوٹانے والا ہے۔یہ مضمون ہے جس کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہم پر اس نصیحت میں روشن فرمایا جو کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر آپ نے فرمائی۔سب سے زیادہ کثرت سے لوگ حاضر تھے سب سے اچھی نصیحت جو آپ میں نے پسند فرمائی وہ یہی تھی۔اس جمعے کی برکت سے ، آج کے دن کی برکت سے تم پانچ نمازوں کی طرف لوٹ آؤ اور روزانہ پانچ نمازیں با قاعدگی کے ساتھ ادا کرو۔