خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد ۱۲ 221 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء پس نمازوں کی اہمیت کے سلسلے میں میں پہلے تو چند آیات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اُس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ قرآن کریم نے نمازوں کو کتنی اہمیت دی ہے۔مرنے کے بعد جن مجرموں کو سزا دی جائے گی ، اُس سزا کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَلَّا إِنَّهَا نَظیہ ایک عذاب کا شعلہ ہے۔نَزَّاعَةً لِلشَّوی وہ سر تک جلد کے چمڑے کو کھینچ کر ادھیڑ دیتا ہے۔تَدْعُوا مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّى اُس شخص کو بھی واپس کھینچ لاتا ہے، بلا لیتا ہے جو اس سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔وَجَمَعَ فَاَوْغی اور اُن سب کو اُس جہنم میں ذخیرہ کرتا ہے، جمع کرتا ہے اور جمع کرتا ہے عارضی طور پر نہیں ذخیرہ کرنے کے لئے گویا لمبے عرصے تک وہ اس مصیبت میں مبتلا کئے جائیں گے۔اِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا انسان کی طبیعت میں تلون پایا جاتا ہے، تلون رکھ دیا گیا ہے۔إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعَاتٌ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا (المعارج:۱۲ ۲۲) جب تکلیف پہنچتی ہے تو گھبراتا ہے، جب خیر پہنچتی ہے تو بخل کرنے لگ جاتا ہے یعنی نیکیوں سے بھی بخل کرتا ہے۔اس مضمون پر پہلے میں مختصر یہ عرض کر دوں کہ جہنم کے ذکر کے بعد جب یہ فرمایا گیا کہ إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا انسان متلون مزاج ہے تو اس لئے ذکر فرمایا گیا کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے یا اللہ تعالیٰ کے ہیبت کے ذکر سے لوگ وقتی طور پر متاثر ہو جاتے ہیں۔پھر کچھ عرصے کے بعد بھول جاتے ہیں اور جب دنیا کی نعمتوں میں پڑتے ہیں تو پھر خدا کے ذکر کے تمام اثرات ان کے دلوں سے مٹ جاتے ہیں۔یہ مضمون ہے جو بیان فرمایا ہے کہ دیکھو تم نے خدا کی قوت کی باتیں سنی ہیں۔تم ڈر گئے ہو گے تمہارے دل میں یہ خوف پیدا ہوا ہو گا کہ کہیں ہم بھی اُن لوگوں میں شامل نہ ہوں لیکن یہ خوف بے کار ہے اگر اس کے نتیجے میں کوئی دائمی تبدیلی پیدا نہ ہو کیونکہ ان باتوں کے سننے کے بعد تم سارے بکھر جاؤ گے اور اپنی اپنی نعمتوں کی طرف واپس لوٹو گے اور وہ نعمتیں تمہیں تن آسانی عطا کریں گی اور تمہارا روز مرہ کا دستورالعمل پھر واپس لوٹ آئے گا۔ایسی نیک باتوں سے تأثیر پکڑنے کا کیا فائدہ۔چنانچہ اس کے بعد فائدہ اٹھانے والوں کا ذکر فرماتا ہے۔کہتا ہے بعض لوگوں پر یہ ذکر جو ہیں دائمی اثر کرتے ہیں اور ان کو دائمی فائدے پہنچا جاتے ہیں۔وہ کون لوگ ہیں؟ إِلَّا الْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَابِمُونَ (المعارج : ۲۳ - ۲۴) ہاں وہ