خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 219

خطبات طاہر جلد ۱۲ 219 خطبہ جمعہ ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء اُن کی زندگیوں میں عظیم الشان پاک تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔اس ضمن میں میں اگلی بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے ایک جمعۃ الوداع کے موقع پر جو نصیحت فرمائی۔میں نے اُسی کو آج کے موضوع کے لئے چنا ہے۔ترمذی صلى الله کتاب الصلوۃ میں یہ حدیث ہے۔حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو جمعتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔حضور یہ فرمارہے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور پانچوں وقت کی نماز پڑھو، ایک مہینے کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوۃ دو اور جب میں کوئی حکم دوں تو اُس کی اطاعت کرو، اگر تم ایسا کروگے تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔( ترمذی کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۶۱۶ ) پس یہ جمعہ محض دوسرے جمعوں کو ادا کرنے کی دعوت ہی نہیں دے رہا بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کی سنت کی غلامی میں آج کے جمعہ کے دن میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو نماز کی پابندی کی طرف بلاتا ہوں اور پانچ وقت کی نمازیں ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔یہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت ہے۔پس دیکھیں کہ آپ نے کیسے اس جمعہ کو الوداع فرمایا۔جمعہ کو ایسے ادا کیا کہ اس کی برکتوں کو روزانہ پانچ وقت مسلمانوں پر لازم کر دیا۔حقیقت میں دو طرح کے انسان ہیں جن کا اس جمعہ سے تعلق قائم ہوتا ہے۔کچھ وہ جو نمازیں با قاعدہ پڑھتے ہیں اور پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے ہیں۔اُن کو اللہ تعالیٰ جمعے پڑھنے کی بھی توفیق عطا فرماتا ہے۔اُن معاشروں میں جیسا کہ مغرب کے معاشرے ہیں جب میں نے تاکید کی کہ جمعہ کی اہمیت کو سمجھو اور اپنے اساتذہ سے اگر سکول میں یا کالج میں ہو یا کمپنیوں کے مالک سے اگر ملازم ہو یا حکومت کے افسروں سے یہ مود بانه مگر پر زور درخواست کرو کہ ہم تین جمعے بیک وقت مسلسل نہیں چھوڑ سکتے۔ہمارے آقا ومولا کا ہمیں حکم ہے۔اگر تین جمعے چھوڑو گے تو کافر ہو جاؤ گے اس لئے خواہ تم اجازت دو یا نہ دو ایک جمعہ تو ان تین جمعوں میں سے ہم نے ضرور ادا کرنا ہے لیکن ہم تینوں پڑھنا چاہتے ہیں اس لئے زائد وقت دے دیں گے تم نے ہم سے جو کام لینا ہے بعد میں لے لینا مگر ہم نے جمعہ ضرور پڑھنا ہے۔جب میں نے یہ نصیحت کی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جن لوگوں نے سنجیدگی سے اس پر عمل کیا۔اُن کے مالکوں یا افسروں کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف سے نرم کر دیئے گئے اور بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے