خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 217

خطبات طاہر جلد ۱۲ 217 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء جو خدا کی عائد کردہ پابندیوں کی زنجیریں توڑنے سے حاصل ہوتی ہیں۔دو قسم کی آزادیاں ہیں جو رمضان کے بعد نصیب ہونے والی ہیں ، ایک اُن نیک لوگوں کی آزادیاں جنہوں نے رمضان کا راستہ دیکھا، جانتے ہوئے کہ پابندیاں عائد ہوں گی خوشی سے اُن کو خدا کی خاطر قبول کیا اور اب جانتے ہیں کہ اللہ کی رضا سے اُس کی عطا کردہ آزادیوں کی طرف لوٹیں گے۔اُن کو لازماً ایک خوشی ہو رہی ہے ، یہ کہنا تکلف ہے کہ تمام لوگ رمضان کی رخصت کو رو رہے ہیں اگر واقعہ یہی رونا آتا ہو تو پھر روزے رکھتے کیوں نہیں چلے جاتے۔بات یہ ہے کہ رمضان میں جہاں بہت سی محبت اور پیار کی چیز میں ہیں وہاں محبت اور پیار کے نتیجے میں عائد ہونے والی سختیاں بھی تو ہیں اور جب محبوب خود اپنے پیار سے ان سختیوں کو اٹھا لیتا ہے تو محبت میں کمی نہیں کرتا۔ہاں اپنے پیارے بندوں کو اجازت دیتا ہے کہ میری پہلی نرمیوں کی طرف لوٹ جاؤ۔اُس کے نتیجے میں لازماً ایک بشاشت بھی پیدا ہوتی ہے اگر یہ بشاشت نہ ہو تو رمضان کے معا بعد عید کیوں رکھی جائے۔پس کچھ ان معنوں میں ضرور خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی رضا سے ہم پر نظر رحمت فرمائی اور از خود اُن آزادیوں کی طرف لوٹا دیا جو پہلے بھی اُس کی مرضی کے تابع تھیں۔لیکن کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی بے راہ روی کی طرف لوٹنے پر خوش ہیں جانتے ہیں کہ ادھر رمضان ختم ہوا، ادھر انہبی آزادیوں کی طرف لوٹیں گے جن کو خدا کی رضا حاصل نہیں ہے، جو اُس کی رضا کے بندھن توڑنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔پس یہ اُن کا بھی آج وداع کا دن ہے۔مگر دیکھیں ان دونوں الوداع میں کتنا فرق ہے؟ کچھ ایسے ہیں جنہوں نے سارے سال جمع نہیں پڑھے ، نمازوں میں بھی سست ہیں اور جمعے بھی ادا نہیں کرتے رہے یا کرتے ہیں تو بے ذوقی کے ساتھ ، بڑی مشکل سے کبھی جمعہ ادا کر لیا اور کبھی نہ کیا۔آج وہ بھی حاضر ہیں اور اُن کو شائد رمضان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق بھی نہ ملی ہولیکن وہ بھی جمعہ کو وداع کرنے آئے ہیں۔کہتے ہیں کہ اب ایک سال تک ہم تیرا منہ نہیں دیکھیں گے۔چھٹی السلام علیکم اور یہ بھی خوش ہو رہے ہیں کہ اس ایک جمعہ کو ادا کر کے سارے سال کی نیکیاں اُن کو میسر آ گئیں۔وہ جمعۃ الوداع ہی نہیں جمعتہ البدل بن گیا۔ہر دوسرے جمعہ کا بدل، ہر دوسری نیکی کا ، ہر دوسری نماز کا بدل بن گیا۔یہ بالکل غیر حقیقی بات ہے اس میں کوئی سچائی نہیں۔پس وہ لوگ جو جمعہ کو