خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد ۱۲ 216 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء ملاقات ہوئی ہو اور وہ آخر جدائی کے وقت الوداع کہتے ہوئے رخصت ہورہا ہو۔ایسے موقع پر جدائی کے ساتھ غم بھی ہوتا ہے۔محبت کے جذبات چہرے سے امڈ پڑتے ہیں اور دونوں طرف سے برابر احساس جدائی دل کو گھیر لیتا ہے۔یہ وہ وداع ہے جو ایک محبوب کا وداع ہوتا ہے۔اس وداع کا تعلق جمعتہ الوداع سے یوں بنتا ہے کہ کچھ لوگوں نے رمضان کا ایک لمبے عرصے انتظار کیا۔اپنی کمزوریوں کی وجہ سے دن بہ دن بہت سی غفلتوں میں ملوث ہوتے چلے گئے اور رمضان کی راہ دیکھتے رہے کہ وہ آئے تو ہمارے سارے گناہ دھلیں ، ہم از سرنو پاک صاف ہوکر ایک نئے سال کا آغاز کریں۔ایسے لوگوں کے لئے یہ جمعہ ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رمضان کے وداع کے ساتھ یہ جمعہ بھی آخری جمعہ ہے اور اس پہلو سے توقع ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جنہوں نے سارا سال انتظار کیا اور پھر رمضان کی برکتوں سے حصہ لینے کی بھر پور کوشش کی ، اُن لوگوں کو پیار کی نظر سے دیکھے گا اور اس جدائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذبات کو قبول فرمائے گا اور اگلے رمضان تک اُن کو مزید نیکیوں کی توفیق عطا فرما تا چلا جائے گا۔ان نیک توقعات کے ساتھ جو لوگ رمضان کا انتظار کرتے رہے ہیں ، اُن کے لئے یہ جمعتہ الوداع واقعہ جمعۃ الوداع کہلانے کا مستحق ہے۔لیکن ایک وداع ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ایسا مہمان آ کر ٹھہر جائے جو جانے کا نام ہی نہ لے۔انتظار کرتے چلے جائیں، مجبوریاں حائل ہوں کہ انسان مہمان کو باہر نکال بھی نہیں سکتا لیکن سارا گھر بڑی تکلیف میں مبتلا ہو بالآخر ایسا مہمان ایک دن رخصت ہوتا ہے، اُسے بھی چھوڑنے کے لئے لوگ گاڑی پہ جاتے ہیں یا بس کے اسٹیشنوں پر جاتے ہیں یا کار تک رخصت کرنے کے لئے آتے ہیں اور جب تک وہ چلا نہیں جاتا۔وہم یہ ہوتا ہے کہ کہیں کسی بہانے ٹھہر ہی نہ جائے اور جب وہ کار یا بس یا گاڑی روانہ ہو جاتی ہے تو چہروں پر ایسی بشاشت آتی ہے کہ الحمد للہ شکر ہے۔آواب ہم اپنے گھر کی خوشیوں کی طرف واپس لوٹیں۔بڑی بھاری تعداد مسلمانوں کی ایسی ہے جو جمعۃ الوداع کو ان معنوں میں وداع کرنے آتے ہیں۔رمضان اُن پہ بہت بھاری گزرتا ہے اور خدا کی عبادتوں سے تنگی محسوس کرتے ہیں۔ایک تو طبعی تکلیف ہے جو ہر انسان کے ساتھ لازم ہے۔اس تکلیف کے علاوہ یہ ایک تکلیف ہے جو دل کی تنگی کہلاتی ہے، میں اُس تنگی کا ذکر کر رہا ہوں اور وہ انتظار کرتے ہیں کہ کب رمضان رخصت ہو تو ہم اپنی پرانی بدیوں کی طرف لوٹ آئیں، اُن آزادیوں کی طرف لوٹ آئیں ،