خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد ۱۲ 218 خطبہ جمعہ ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء ان معنوں میں رخصت کرنے آئے ہیں۔اُن سے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کے پیغام کا کوئی تعلق نہیں۔میں جماعت احمدیہ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ لوگ جو وداع کرنے آئے ہیں اُن معنوں میں وداع کریں جن معنوں میں میں نے ابتداء میں ذکر کیا۔محبت کے ساتھ خدا کے حضور حمد وثنا کے گیت گاتے ہوئے اُس سے یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اے خدا بہت ہی بابرکت جمعہ آیا ہے۔ہم نے مشقت کی راہ اختیار کرتے ہوئے تیری خاطر پابندیاں اختیار کیں اور ان پابندیوں کی حالت میں جو برکتیں نازل ہوتی ہیں جمعہ کے دن وہ برکتیں غیر معمولی طور پر آسمان سے بھر پور صورت میں اترتی ہیں۔تین جمعے ہم نے تیرے فضل اور رحمتوں کے دیکھ لئے یہ وہ جمعہ ہے جو سارا سال میں برکتوں کے لحاظ سے سب سے بڑا جمعہ ہے۔پس ان برکتوں سے ہمارے دامن بھر دے، جو غفلتیں ہم سے ہوئیں اُن سے درگز رفرما،صرف نظر کر اور بخش دے اور اگر ہم نے ان برکتوں کو کمایا نہ بھی ہو تو ہماری جھولی میں ایک فقیر کی طرح کچھ ڈال دے۔ان دعاؤں کے ساتھ اس جمعہ کو الوداع کہنے والے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبولیت کی جگہ پائیں گے اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُن کی جھولیاں بھری جائیں گی۔بعض دنوں میں کنجوس بادشاہ بھی بڑی بڑی خیرات کرتے ہیں اور وہ جو سنی ہوں وہ تو خزانوں کے منہ کھول دیا کرتے ہیں۔پس آج کا دن اللہ تعالیٰ کی برکتوں کے خزانوں کا منہ کھولنے کا دن ہے مگر وہی اُس سے فائدہ اٹھائیں گے جن کا میں نے پہلے گروہ میں ذکر کیا ہے۔وہ لوگ جو جمعہ نہیں پڑھنے آئے اور جمعہ کو الوداع کہنے کے لئے آئے ہیں۔اُن کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس جمعے کی برکت سے اپنے گھر اس طرح بھریں کہ آئندہ کبھی جمعہ میں کوتا ہی نہ کریں۔اسے جمعۃ الوداع بنانے کے بجائے جمعہ الاستقبال بنا دیں۔استقبال کرتے ہوئے خدا سے عرض کریں کہ ہم سے بہت غفلت ہوئی، ہم نے ہر جمعہ کو ہمیشہ سے وداع کر رکھا تھا، آج ہم تیرے حضور حاضر ہوئے ہیں چند جمعے جو تیری خاطر ہم نے پڑھے یا اگر نہیں بھی پڑھے۔آج کے جمعے میں تو ہم حاضر ہو گئے ہیں۔اس کو ہمارے لئے دائگی برکت کا موجب بنا، اسے ہمارے گھر ٹھہرا دے اب ہم کبھی جمعے سے جدا نہ ہوں۔پس ان معنوں میں اُسے جمعتہ الاستقبال بنادے۔اگر ایسا کریں گے تو