خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 125
خطبات طاہر جلد ۱۲ 125 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء کرتے ہیں ان کے لئے جنت ہے۔یہاں جنت کا ذکر انفس کے پہلے ذکر کے نتیجہ میں لازمی تھا۔معاً بعد اگر انفس کی قربانی اپنی انتہائی شکل میں قبول ہو جائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلنا چاہئے جنت ہی جنت لیکن اگر اموال پہلے ہیں تو یہ قربانیوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے اموال جاتے ہیں اور کئی قسم کے مصائب انسان پر توڑے جاتے ہیں۔کئی قسم کے مظالم کئے جاتے ہیں اور جانیں بھی تلف ہوتی ہیں لیکن زندگی کی ایک لمبی کشمکش ہے اس لئے اس کشمکش میں عَذَابِ الیہ کے نظارے دنیا میں دیکھے جاتے ہیں اور دکھائے جاتے ہیں تو پہلے عَذَابِ اَلِیمِ سے بچنے کی خوشخبری دی گئی ہے۔بعد میں اگلی آیت میں مثبت مضامین بھی بیان ہوئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں تفصیل کے ساتھ جو اجر بیان ہوا ہے وہ کسی پہلو کو باقی نہیں چھوڑتا اور اس آیت کا جماعت احمدیہ سے بڑا گہرا تعلق ہے کیونکہ یہ سورۃ الصف کے آخر پر ہے اور سورۃ الصف میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کی ظلی آمد ثانی کا احمد نام کے ساتھ ذکر موجود ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کی خوشخبری حضرت عیسی علیہ السلام نے احمد نام سے دی تھی جو آج تک بائییل میں موجود ہے۔اگر چہ تحریف کر کے اس لفظ کے حلیے بگاڑنے کی کوشش کی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام محققین اپنے دل سے جانتے ہیں کہ یہاں ذکر احمد ہی کا ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کا۔دھو کے سے اور تلیس کے ذریعہ اس کو چھپانے کی کوشش بھی کریں تو یہ حقیقت چھپ نہیں سکتی۔احمد محمد مصطفی " کا ہی دوسرا نام ہے لیکن خدا کے کلام کی عجیب شان ہے کہ مسیح سے وہ نام دلوایا جو آخری زمانہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ایک اور شان کی صورت میں دنیا میں جلوہ گر ہونا تھا۔شان محمدی نے پہلے زمانہ میں جلوہ دکھانا تھا اور شان احمدی نے بھی پہلے زمانہ میں ایک جلوہ دکھانا تھا لیکن دوسرے وقت میں جبکہ آخری کا زمانہ آنا تھا اس میں صرف شان احمدی نے ظہور کرنا تھا اور مسیح کے منہ سے وہ نام نکلوایا جس نے مسیح کی آمد ثانی کی صورت میں بھی پورا ہونا تھا۔بڑا ہی فصیح و بلیغ کلام ہے۔تو جماعت احمدیہ کا سورہ صف کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے اور جماعت احمد یہ بنگلہ دیش جس شان کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر رہی ہے اور جس اخلاص کے ساتھ ثابت قدمی سے ابتلاؤں کو برداشت کر رہی ہے اور نیکیوں میں آگے بڑھ رہی ہے اس وجہ سے میں نے انہی آیات کو آج اُن کے جلسہ کے لئے موضوع بنایا تا کہ ان کو پتا لگے کہ قرآن کریم میں ان کا ذکر موجود ہے بظاہر