خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 124

خطبات طاہر جلد ۱۲ 124 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء ایسا نڈر تھا۔وہ مرتے وقت ان کی فکر میں مبتلا تھا۔ان کو کہ رہا تھا کہ خدا کا عذاب نہ تمہیں پکڑے پس لا تَخَافُوا کا ایک یہ بھی معنی ہے اور لَا تَحْزَنُوا کے مقام سے تو وہ اوپر جاچکے ہوتے ہیں وہ سب کچھ گنوا کر بھی خوش رہتے ہیں اور ذرہ بھی پروا نہیں کرتے۔یہ تو مخفی رنگ میں وعدے تھے یا ان کی کیفیت کا بیان لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ اب تمہیں ہم خوشخبری دیتے ہیں کہ صرف یہی نہیں کہ تم خوف سے بلند کر دیئے گئے ہو اور یہ مقام خوف سے بلند ہونا بہت عظیم مقام ہے اور حزن سے بلند کر دیئے گئے ہو۔جو کچھ گزر جائے نہ خوف تمہارے قدموں کو چھو سکتا ہے نہ حزن تمہیں دکھ پہنچا سکتا ہے۔یہ دنیا کے لئے ابتلا ہیں تم ان ابتلاؤں سے بالا کر دیئے گئے ہولیکن یہی نہیں فرمایا تمہارے لئے خوشخبریاں ہیں ایسی جنتیں ہیں جو دائی اور ہمیشہ کے لئے ہیں اور ان جنتوں میں اللہ کی رضا کے ساتھ تم داخل کئے جاؤ گے۔تو اس آیت میں یہ دونوں مضامین بیک وقت بیان ہوئے ہیں لیکن جن آیات میں بظاہر ایک ہی مضمون ہے۔ان آیات کے سیاق و سباق کو دیکھیں تو لازماً دونوں قسم کے مضامین ہمیشہ وہاں اکٹھے دکھائی دیں گے۔منفی انداز میں بھی اجر کا ذکر ہے اور مثبت انداز میں بھی لیکن اکیلی آیت جس میں سودا ہی منفی رنگ میں بیان ہو وہ مجھے صرف یہی آیت دکھائی دی۔یہ ایک ہی آیت ہے جس میں وعدہ یہی کیا گیا ہے کہ تمہیں عذاب الیم سے بچایا جائے گا اور اس آیت کا بھی سودا سے تعلق ہے اور وہ آیت جس میں مثبت انداز میں وعدہ کیا گیا ہے اس کا بھی سودے سے تعلق ہے اور دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ ایک جگہ قربانی میں جان کی قربانی کو پہلے رکھا گیا ہے اور دوسری میں اموال کی قربانی کو پہلے رکھا گیا ہے۔بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں بیان کیا تھا قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں، بہت ہی گہرائیاں اس کے مضامین میں ہیں جان کی قربانی میں سب سے بڑی قربانی شہادت ہے اس میں صرف عمر کی جان کی قربانی بھی داخل ہے لیکن جو شہید ہو جائے گا اس کے لئے حزن کا یا فکر کا یا عذاب الیم کا تو کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا اس کے لئے تو سیدھا جزا کا معاملہ ہے اور جنت ہی جنت ہے تو فرمایا وہ إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ له لوگ جو خدا سے اپنی جانوں کا سودا کر لیتے ہیں، اموال کا سودا کر لیتے ہیں اور اس بات پر بیعت