خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 927
خطبات طاہر جلد ۱۱ 927 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء گئے ہیں۔پس چھوٹی جماعت ہونے کے لحاظ سے ان کو یہ فائدہ تو پہنچ گیا ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے وہ اول دوم سوم میں شمار ہونے لگے ہیں لیکن فی الحقیقت کام کی نوعیت اور بوجھ اٹھا کر چلنے کے اعتبار سے بعض بعد میں آنے والے خدمت کے میدان میں ان سے آگے سمجھے جانے چاہئیں۔بہر حال اس لحاظ سے سہرا سوئٹزر لینڈ کے سر ہے۔گزشتہ سال ۲۶ تعداد تھی۔اس سال ۸۳ ہو گئی ہے جبکہ ۲۱۹ فیصد اضافہ ہے اس کے بعد ریجیم کی باری آتی ہے تعدادے اسے بڑھ کر ۵۴ ہوگئی ہے اور ۲۱۷ فیصد اضافہ۔پھر گی آنا (Guyana) کی باری ہے ۱۳ تعداد تھی جو ۲۸ ہوگئی اب دیکھ لیں کہ اعداد وشمار بعض دفعہ سچ بولنے کے باوجود جھوٹ بول جاتے ہیں یعنی بظاہر ایک کچی بات ہے لیکن جو تا ثر ہے وہ جھوٹا ہے۔گی آنا میں جماعت احمدیہ کی تعداد خدا کے فضل سے کافی ہے اور ان کے لئے ۱۳ ہونا بھی قابل شرم ہے اور ۲۸ ہونا بھی قابل شرم ہے۔اس لئے محض اعداد و شمار کافی نہیں ہوا کرتے۔اعداد و شمار کے ساتھ اس کے ماحول کی کچھ باتیں ہیں۔ان کو دیکھنے کے بعد اعدادوشمار کا پیغام صحیح پہنچا کرتا ہے ورنہ Juggling with figures محاورہ ہے۔یہ کر کے حکومتیں بعض دفعہ اپنے بجٹ کے بالکل مختلف حالات پیش کر دیتی ہیں حالانکہ اعداد و شمار درست ہوتے ہیں اپنی مرضی کی بات ہے کہ کس قسم کے اعداد و شمار کو کس طرح پیش کیا جائے۔اب دیکھیں نا ! جب ہم بھی مختلف زاویوں سے پہلو بدل بدل کر اعداد و شمار آپ کے سامنے رکھتے ہیں جیسا کہ گوئٹے مالا کی تعداد ے تھی ۱۳ ہوگئی لیکن یہاں واقعی گوئٹے مالا نسبتاً زیادہ قابلِ داد ہے کیونکہ گی آنا کے مقابل پر گوئٹے مالا کے احمدیوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی ہے کیونکہ ابھی نیا مشن قائم ہوا ہے اس پہلو سے سے کا ۳ ہونا اللہ کے فضل کے ساتھ یقینا معنی رکھتا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس میں اور بھی اضافے ہونگے۔اب ہم امریکہ اور جرمنی کی طرف آتے ہیں۔امریکہ کے چندہ دہندگان کی تعداد گزشتہ سال ۶۲۳ تھی امسال یہ بڑھ کر خدا کے فضل سے ۲۵۴۸ ہوئی ہے۔۱۶۲۳ کو ۲۵۴۸ میں بدلنا یقیناً محنت طلب کام ہے کافی وسیع پیمانے پر لمبے عرصہ تک محنت کی گئی ہوگی۔جرمنی میں ۳۵۷۰ تعداد تھی جو بڑھ کر ۶۰ ۵۵ ہوئی ہے تقریبا دو ہزار نئے چندہ دہندگان شامل کئے گئے ہیں یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہے۔بہت عظیم اور مسلسل محنت کی مظہر کامیابی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ آگے سے آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔کینیڈا نے بھی تعداد بڑھانے میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ان کی