خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 928 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 928

خطبات طاہر جلد ۱۱ 928 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء رپورٹ جب میں آپ کے سامنے رکھوں گا تو اس میں اس کا ذکر ملتا ہے۔جماعت احمد یہ عالمگیر کی پہلی دس جماعتیں جو فی کس چندے کے لحاظ سے سب سے آگے ہیں اب میں انکی فہرست آپکے سامنے پیش کرتا ہوں۔جن جماعتوں کو بہت اعلیٰ کارکردگی دکھانے کی توفیق ملی ہے ان کے نام صرف فخریہ طور پر نہیں پڑھے جاتے بلکہ ایک تو مسابقت کی روح آگے بڑھانے کے لئے پڑھے جاتے ہیں تا کہ جن جماعتوں میں یہ روح کچھ مدھم ہے وہ جاگ اٹھے، کچھ چمک اٹھے، نئے ولولے پیدا ہوں۔دوسرا بڑا مقصد ان جماعتوں کے لئے دعا کی تحریک کرنا ہوتا ہے حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی ہر بات کی تان بالآخر دعا پر ٹوٹتی ہے۔پس جب ان جماعتوں کے لئے آپ دعا کریں تو ان کمزور جماعتوں کے لئے بھی دعا کریں جن کو ابھی تک قربانی کے میدان میں آگے آنے کی توفیق نہیں ملی تا کہ ہمارے مقابلے صرف دو یا تین گھوڑوں میں نہ رہیں بلکہ چالیس پچاس ساٹھ گھوڑے گردن کے ساتھ گردن ملا کر دوڑ رہے ہوں اور کچھ پتا نہ ہو کہ کون آگے نکلے گا۔یہ وہ جذبہ ہے جو قرآنِ کریم کی اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ لِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقره: ۱۴۹) که خدا تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے ایک نصب العین مقرر فرما دیا ہے اور اے محمد مصطفی علیہ کے غلامو ! تمہارے لئے نصب العین یہ ہے کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے مسابقت کرو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو مسلسل دوڑتے ہوئے نیکیوں کے میدان میں دوسرے بھائیوں کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرو۔جس ملک میں ہم رہتے ہیں یہاں لوگ گھوڑ دوڑ کے بہت شوقین ہوتے ہیں ان کے ذہن میں یہ بات خوب اچھی طرح جاگزیں ہو چکی ہے کہ جب ایک سے زیادہ صلاحیت والے گھوڑے اکٹھا دوڑتے ہیں تو کیسا خوبصورت منظر سامنے آتا ہے اور کس طرح جوئے باز جو ہیں وہ اپنے آپ کو بے بس اور بے طاقت محسوس کرتے ہیں۔نہیں کہہ سکتے کہ کون سا گھوڑا آگے نکل آئے گا بعض دفعہ پانچ پانچ ، چھ چھ ، سات سات گھوڑوں میں یہ مقابلہ ہورہا ہوتا ہے لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کے گھوڑے اور شان کے گھوڑے ہیں یہ نیکیوں کے میدان میں دوڑنے والے ہیں۔یہاں شیطانی شرطیں نہیں پڑھی جاتیں لیکن نیک تو قعات رکھی جاتی ہیں اور دعاؤں کے مقابلے ساتھ ساتھ ہو رہے ہوتے ہیں۔پس یہ جو نقشہ کھینچا گیا ہے اس کے مضمون کو دعاؤں کے ساتھ باندھنا ضروری