خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 919
خطبات طاہر جلد ۱۱ 919 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء ہاتھ کے لکھے ہوئے کی ایسی حرص تھی ، ایسی لالچ تھی کہ ایک موقع پر جبکہ وہ صدرمقرر ہوئے تھے ان کا لسٹ میں پہلے نام آنے لگا تو میں نے عاجزانہ طور پر درخواست کی کہ کیونکہ یہ حضرت مصلح موعودؓ کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اس لئے اگر چہ میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا مگر مجھے اسی نمبر پر رہنے دیا جائے۔اس میں ایک پیشگوئی بھی تھی کہ خدا مجھے وقف جدید کے سلسلہ میں غیر معمولی خدمت کی توفیق بخشے گا اور اب وقف جدید کا نیا دور شروع ہوا ہے تو اب مجھے سمجھ آرہی ہے کہ کیوں حضرت مصلح موعود نے میرا نام پہلے لکھا تھا کیونکہ اس وقت تو تصور میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے خلافت کے منصب پر فائز فرمائے گا اور وقف جدید کی تحریک کو عالمی بنانے کا خیال دل میں پیدا فرمائے گا اور پھر اس کی توفیق بخشے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ہمیں خوشیوں کے یہ دن دکھائے کہ وہ تحریک جوصرف پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش تک محدود تھی اسے عالمی تحریک بنانے کی توفیق ملی اور جماعت احمدیہ کو بڑی ہی محبت اور خلوص کے ساتھ اس آواز پر لبیک کہنے کی تو فیق ملی۔جماعت احمدیہ کا جو یہ پہلو ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک ایسا عظیم الشان ثبوت ہے کہ ساری دنیا زور مارلے، گالیاں دے یا کوششیں کرے اور منصوبے بنائے تو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی یہ نمایاں اور عظیم الشان اور امتیازی خوبی ان سے چھین نہیں سکتی۔اس پیغام کو سو سال ہو چکے ہیں سو سال میں کتنی ہی نسلیں ایک دوسرے کے بعد آتی ہیں اور تھک ہار کر بیٹھ رہا کرتی ہیں اور مالی نظام تو خصوصیت کے ساتھ بہت ہی زیادہ ابتلاء میں ڈالے جاتے ہیں۔ابتلاء ان معنوں میں کہ مالی لحاظ سے ۱۰۰ سال کے اندر کام کرنے والوں کی دیانتیں بدل جاتی ہیں ان کے اخلاص بدل جاتے ہیں، قربانی کرنے والوں کا معیار بدل جایا کرتا ہے اور اس پہلو سے وہ مالی نظام جو خالصۂ طوعی تحریک پر مبنی ہو اس کے لئے ایک سوسال تک کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا اس جماعت کے بانی کی صداقت کی ایک بہت ہی عظیم الشان دلیل ہے۔خاص طور پر جبکہ دنیا کے رجحان اس کے برعکس چل رہے ہوں جبکہ مالی قربانی کا تصور عملاً مٹتا چلا جارہا ہو جبکہ حکومتوں کی دولت پر کام چلائے جاتے ہوں اور انفرادی کوشش اور محنت اور اخلاص کے ساتھ اعلیٰ مقاصد کے لئے روپے پیش کرنے کا تصور اگر پہلے بعض قوموں میں تھا بھی تو کم ہوتا چلا جائے۔دنیا میں جتنی بھی قومیں نیکی کے نام پر خرچ کرتی ہیں ان کے متعلق بلا خوف اختلاف یہ کہا جا