خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 918
خطبات طاہر جلد ۱۱ 918 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء بنتا جا رہا ہے اور کل انشاء اللہ تعالیٰ جو جلسہ وہاں شروع ہو گا اس کا ایک حصہ یعنی میری تقریر تمام دنیا کی جماعتیں سن بھی رہی ہوگی اور دیکھ بھی رہی ہوگی اور کچھ جماعتیں اس طرح شریک ہونگی کہ ان کے کوئی نہ کوئی نمائندے وہاں پہنچے ہوئے ہونگے تو ایک بہت ہی عظیم الشان اور خوشیوں کا دن ہے جو کل طلوع ہو گا لیکن آج کا جمعہ بھی درحقیقت اس سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس وقت بھی خدا کے فضل سے تمام دنیا کی جماعتیں اس جمعہ میں ان معنوں میں شامل ہیں کہ دیکھ رہی ہیں اور سن رہی ہیں اور ہر ایسے موقع پر جو اطلاعیں ملتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بالکل نئے اور تازہ ولولے پیدا ہوتے ہیں۔سب سے زیادہ خوشی تو اس بات کی پہنچتی ہے کہ جماعت خدا کے فضل سے بہت ہی زرخیز مٹی ہے جو بات کہی جائے وہ اس زرخیز مٹی پر پڑتی ہے جو اسے قبول کرتی ہے اور پھر بڑی تیزی سے نیکی کے پیچ نشو ونما پاتے ہیں۔اب تو روزانہ ڈاک میں بکثرت ایسے خط ملنے لگے ہیں کہ ہم فلاں معاملے میں کمزور تھے ، فلاں معاملے میں کمزور تھے۔دیانتدار اپنے آپ کو سمجھتے تھے لیکن حقیقت میں دیانت کا تصور نہیں تھا۔خیانت سے پاک سمجھتے تھے مگر اب پتا چلا ہے کہ خیانت ہوتی کیا ہے اور ہم یہ یہ عہد کر چکے ہیں اور خدا کے فضل سے نئی زندگیوں کا آغاز کر رہے ہیں۔اس طرح عبادات کے سلسلہ میں بھی جو خطوط ملتے ہیں ان سے روح تازہ ہو جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی عالمی تربیت کے ایسے عمدہ انتظام فرما دیئے ورنہ ایک خلیفہ کے لئے ناممکن تھا کہ ساری دنیا کی جماعتوں پر نظر رکھتا، ان تک پہنچ سکتا اور براہ راست ان سے مخاطب ہو کر ان کے دلوں میں نئے ولولے پیدا کر سکتا لیکن اب خدا نے یہ ایسے عجیب انتظام فرما دیئے ہیں کہ جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔اب میں وقف جدید کے سالِ نو کے اعلان کی طرف آتا ہوں۔اس وقت تک وقف جدید پر چھتیں سال گزر چکے ہیں اور آج سینتیسویں سال کے آغاز کا اعلان کیا جائے گا سب سے پہلے جب ۱۹۵۷ء کے آخر پر وقف جدید جاری ہوئی تو حضرت اقدس مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنے ہاتھ سے وقف جدید کی مجلس میں پہلا نام میرا لکھا۔اگر چہ حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کو ہر لحاظ سے مجھ پر فوقیت حاصل تھی عمر کے لحاظ سے بھی بزرگ تھے صحابی بھی تھے اس لئے میری حیاء کا تقاضا تو یہ تھا کہ میں کبھی بھی اس بات پر اصرار نہ کرتا کہ میرا نام پہلے لکھا گیا ہے لیکن حضرت مصلح موعودؓ کے