خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 920
خطبات طاہر جلدا 920 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء سکتا ہے کہ ہر آنے والے سال میں لوگوں کے جذبے میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور رفتہ رفتہ نیک کاموں پر از خود خرچ کرنے کا رجحان کم ہوتا چلا جارہا ہے۔جماعت احمدیہ کا گراف اس سے بالکل مختلف ہے اور حیرت انگیز وفا کے ساتھ اپنے اس اسلوب کو قائم رکھے ہوئے ہے کہ ہر آنے والا سال جماعت کی مالی قربانی کی روح کو کم کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے۔یہ اعجاز خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک سچے فرستادہ کے سوا کوئی دنیا میں دکھا نہیں سکتا۔ساری دنیا کی طاقتوں کو میں کہتا ہوں کہ مل کر زور لگا کر دیکھ لیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسی کوئی مالی قربانی کرنے والی جماعت کہیں ہو تو لا کر دکھائیں۔دنیا کے سامنے وہ چہرے تو پیش کریں وہ کون لوگ ہیں جو اس طرح اخلاص اور وفا کے ساتھ اور بڑھتی ہوئی قربانی کی روح کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنے اموال پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ چونکہ اموال کی باتیں ہیں اس لئے میں اموال کی بات کر رہا ہوں ورنہ خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ نیکیوں کے ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہے۔کسی میدان میں بھی پیچھے نہیں رہ رہی۔وقتی طور پر جہاں بعض دفعه اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں جب بھی توجہ دلائی جائے تو فوری طور پر اس کا رد عمل پیدا ہوتا ہے اور غلط راہوں پر جانے والے لوٹ آتے ہیں اور پھر صحیح راستے پر قافلے کے ساتھ مل کر چلنے لگتے ہیں۔پاکستان میں بھی بعض خرابیاں مثلاً ویڈیو کیسٹ کے غلط استعمال سے متعلق شروع ہوئیں۔میں نے ایک خطبے میں اعلان کیا تھا کہ بعض گندی رسمیں راہ پا رہی ہیں اس سے قومی اخلاق تباہ ہو جائیں گے اور گھروں کے امن اٹھ جائیں گے اور میاں بیوی کے وفا کے سلسلے ٹوٹ جائیں گے اور ان کے تعلقات میں رخنے پڑ جائیں گے دراڑیں پڑ جائیں گی ہر گز اس رجحان کو پنپنے نہ دیں چنانچہ مجھے پاکستان سے جو خطوط ملے ان سے میرا دل خدا کے حضور سجدہ ریز ہوا اور بار بار ہوا کہ وہ لوگ جو بعض بدیوں میں مبتلا تھے انھوں نے صاف لکھا کہ ہم ان غلط کاموں میں پڑ گئے تھے۔اللہ کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے وابستہ ہیں اور براہ راست جب آپ کی آواز ہم تک پہنچی ہے تو یہ سارے جھوٹے بت تو ڑ کر ہم نے اپنے دلوں سے باہر پھینک دیئے تو جماعت میں نیکی کی آواز پر لبیک کہنے کا جو مادہ ہے یہ صداقت کی اصل روح ہے اور یہ صداقت کی روح کبھی کوئی جھوٹا دنیا میں نہیں بنا سکتا۔جن لوگوں کو عقل ہے، جن کو ہوش ہے، جن کو نفسیات کا کچھ ادنی سا بھی علم