خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 912
خطبات طاہر جلدا 912 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء امانت کا حق ادا کرتے ہوئے جان بھی جائے تو وہی مضمون اس پر صادق آتا ہے کہ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا (دیوان غالب صفحہ : ۶۵) پس اس جذبہ سے احمدی اپنے حقوق ادا کرنے شروع کریں تو دیکھیں دنیا پر خدا تعالیٰ کے فضل سے کتنی جلدی جلدی اللہ تعالیٰ ان کا رعب قائم کرتا ہے ان کو نشو ونما عطا فرماتا ہے ان کو بڑھاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جب کسی کام کرنے والے پر پیار کی نظریں پڑنے لگ جائیں تو و ہیں اس نے اپنے مقصد کو پالیا اور جب خدا کے پیار کی نظر کسی شجر پر پڑتی ہے تو وہ ضرور پھولتا پھلتا ہے ایسا شجر بانجھ رہ ہی نہیں سکتا تو جو عہد یدار ہیں وہ اس طرح کام کریں اس نیت سے کام کریں کہ اللہ کی رضا کی پیار کی نظریں ان پر پڑنے لگیں اور کام کرنے والے خود اپنے اپنے دائرہ کار میں اسی طرح کام کریں کہ مقصود یہی ہو کہ میرے مولیٰ کی محبت اور تحسین کی نظر مجھ پر پڑنے لگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کتنے پیار اور کتنے ناز سے بار بار فرمایا ہے۔ سبـحـــان مـن يــرانــی سبحان من یرانی مجھے کیا فکر ہے وہ ذات میرا محبوب پیارا اور بہت پاک ہے اور بہت بلند ہے جو ہر حال میں مجھے دیکھ رہا ہے ایک لمحہ کے لئے بھی مجھے اس کی محبت کی نگاہ چھوڑتی نہیں ہے۔ ایسے شخص کے کام کیسے بے پھل کے رہ سکتے ہیں وہی ایک ہے جو آج کروڑ بن گیا ہے۔ تمام دنیا میں جس کے رہ نام کا ڈنکا بج رہا ہے جس کی شہرت زمین کے کناروں تک جا پہنچی ہے آج آپ میں سے ہر ایک میں وہ صلاحیت موجود ہے جو اگر خدا کے پیار کا مورد بن جائے ، اس صلاحیت پر خدا کے پیار کی نظر پڑنی شروع ہو جائے تو ضرور چپکے گی ضرور نشو و نما پائے گی ، ضرور پھول پھل لائے گی ۔ امانت کا حق اس طرح ادا کرنے کی کوشش کریں تو دیکھیں خدا تعالیٰ پھر کس طرح آپ سے محبت اور پیار کا سلوک فرماتا ہے۔ اور تمام دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ احمدیت کا پیغام پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرے شہید کا ذکر بھی میں کرنا چاہتا ہوں۔ مبشر احمد صاحب چوہدری مبلغ سلسلہ کانو نائیجیریا میں مبلغ سلسلہ ہیں اور نائیجیریا میں کانوسٹیٹ میں تبلیغی فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ ان کے متعلق آج ہی اطلاع ملی ہے کہ اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ تبلیغی سفر پر ایک کار میں کہیں جا رہے تھے تو راستے میں کار ایک کھائی میں گر گئی اور وہاں ہمارے عزیز بھائی مبشر احمد نے تو