خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 890
خطبات طاہر جلدا 890 خطبه جمعه ۱۱ دسمبر ۱۹۹۲ء کے نتیجہ میں یہ رد عمل نہیں دکھایا جا رہا۔ یہ محض سیاسی اور قومی دشمنیوں کے نتیجہ میں ہے اس پہلو سے عالم اسلام کو اکٹھا ہو کر یقیناً قومی غیرت کے تقاضے بھی پورے کرنے چاہئیں لیکن اس کو اسلام اور دین کے ساتھ باہم اختلاط کر کے نہیں دکھانا چاہئے اگر اعلیٰ درجے کا تقویٰ نہیں تو کم از کم سیدھی سادی سچی بات کرنے کی عادت ڈالو مسجدوں کی محبت کے نتیجہ میں ایسا نہیں ہوا کیونکہ یہی مسلمان ایک دوسرے کی مسجد میں بھی جلاتے ہیں اور ان کو منہدم کرتے ہیں۔ شیعوں کے مقدس مقامات برباد کئے جاتے ہیں اور جلائے جاتے ہیں ، سنیوں کے جلائے جاتے ہیں، پاکستان میں لاہور میں بھی ایسے واقعات ہوئے ، پشاور میں بھی ایسے واقعات ہوئے ، کراچی میں ایسے واقعات ہوئے سندھ میں بکثرت ایسے واقعات بار بار ہوتے رہے۔ یہ کوئی آج اور کل کی بات نہیں تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب مسلمانوں نے ایک دوسرے نے ایک دوسرے مسلمان فرقے کے خلاف ا اپنی طرف سے علم جہاد بلند کیا اور ان کے راہنماؤں نے ان بے چارے سادہ لوح مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ یہ مساجد ضرار مساجد ہیں۔ یہ خدا کی نہیں ہیں بلکہ غیر اللہ کی مساجد ہیں اُٹھو ان کو منہدم کر دو خدا اس سے تم سے خوش ہوگا۔ پس اگر خدا کے نام پر خدا کے گھروں کو برباد کرنے کی تعلیم کو قوم برداشت کرلے اور یہ عادت اس کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہو تو پھر جب غیر ایسی حرکتیں کریں تو اس کو کس منہ سے تم طعنہ دے سکتے ہو اس کو کس منہ سے کہہ سکتے ہو کہ تم بڑا ظلم کر رہے ہو کہ اللہ کی عبادت کرنے والے گھروں پر تم نے ظلم کا ہاتھ اُٹھایا ہے اور عبادت کرنے والے گھروں کو منہدم کیا ہے۔ جماعت احمدیہ کی حالیہ تاریخ میں سے چند حقائق میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جہاں تک خدا کے گھر کی عزت واحترام کا تعلق ہے کس حد تک وہ عزت آج پاکستان کے علماء کے ذہن پر روشن ہے یا ان کے دلوں میں جاگزیں ہے یا ان کے رُخ معین کرتی ہے خدا کی خاطر اگر مسجدوں سے محبت ہو تو رُخ ایک ہی معین ہو گا یعنی وہ رُخ جو قبلے کا رُخ ہے جو خدا کی طرف لے کر جاتا ہے۔ خدا کی تعلیم پر مبنی ہے ایک ہی طرح کے رد عمل ظاہر ہوں گے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ محبت خدا کی ہو اور آپس کی دشمنیوں کے نتیجہ میں خدا کے گھر کی بربادی کے رد عمل مختلف ہو جائیں ۔ خدا قدر مشترک ہے وہ ہم سب کا خالق و مالک ہے جب اس کے گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالا جائے تو اس سے محبت کرنے والے کا رد عمل لازماً ایک ہو گا خواہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھنے والی مسجد