خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 891 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 891

خطبات طاہر جلد ۱۱ ہو یا خدا کا گھر ہو۔891 خطبہ جمعہ اار دسمبر ۱۹۹۲ء اس پہلو سے جب ہم دیکھتے ہیں تو آئیے میں آپ کو شکوے کے طور پر نہیں سمجھانے کی خاطر بتا تا ہوں کہ دیکھو کل تک تم جو حرکتیں کیا کرتے تھے آج اللہ کی تقدیر نے تمہیں آئینہ دکھایا ہے اور تمہیں بتایا ہے کہ خدا کے حضور یہ حرکتیں پسندیدہ نہیں ہیں اور پکڑے بغیر نہیں چھوڑی جائیں گی تقوی سے کام لو۔خدا کی انگلی کے اشاروں کو دیکھو اور سمجھو۔پاکستان میں جو احمدی مساجد شہید کی گئی ہیں ان میں سے ایک احمدیہ مسجد را ہوالی ، ایک باگڑ سرگانہ ، ایک مردان ، ایک گلار چی، ایک علی پور چٹھہ ، ایک مری، ایک بچیانہ ، ایک ننکانہ صاحب، ایک چک MB /۱۳ تحصیل وضلع وہاڑی چک نمبر ۶۳ ۵گ ب ہے۔مختلف وقتوں میں یہ مسجدیں منہدم کی گئیں اور بعض جگہ ایسا ہوا کہ اس کا ملبہ بھی لوگ اُٹھا کر لے بھاگے۔مسجد مردان جب منہدم کی گئی ہے تو سارے دن کی کارروائی تھی بہت بڑی مضبوط مسجد تھی۔اسے پلید کہہ کر شہید کروایا گیا اور ساری پلید چیزیں چور لے کر بھاگ گئے۔بنگلہ دیش میں راج شاہی کی مسجد جب شہید کی گئی تو اسی طرح کی گئی پلید پلید کہہ کر اس کو شہید کر دیا گیا اور ساری پلید چیزیں اپنے گھروں کی امارتوں کی زینت بنادی گئیں۔پس یہ سوال ہے کہ یہ واقعہ ہونے میں کتنی دیر لگی تھی۔کیا اس وقت پاکستان میں کوئی حکومت موجود نہیں تھی ؟ کیا ان علماء کو جنہوں نے ان مسجدوں کو شہید کرنے کی تعلیم دی تھی ان کو علم نہیں تھا کہ خدا کی عبادت کے گھر ہیں اور خدا کی عبادت کے لئے لوگ یہاں اکٹھے ہوتے ہیں؟ کیا یہ مساجد نہیں تھیں؟ جانتے ہیں کہ مساجد تھیں کیونکہ دوسرے کوائف سے ثابت ہے کہ احمدیوں کی بکثرت مساجد چھین لی گئیں اور ان میں اب غیر احمدی علماء نمازیں پڑھاتے اور غیر احمدی نمازیں پڑھنے والے نمازیں پڑھتے ہیں۔اگر وہ مسجد میں نہیں تھیں تو مندروں میں تو عبادت کرنے کا ان کو کوئی حق نہیں ہے۔کثرت سے ایسی مساجد ہیں جن پر قبضہ کیا گیا اور وہاں با قاعدہ ان کو اپنایا گیا۔قبلہ بھی وہی ہے چونکہ پہلے بھی وہی قبلہ تھا، وہی گنبد ہیں جو پہلے تھے، وہی مینار ہیں جن میناروں سے پہلے اذانیں دی جاتی تھیں، کوئی بھی فرق نہیں گویا کہ ان کا فعل اقرار کر رہا ہے اور کھلم کھلا اقرار کر رہا ہے کہ احمدیوں کی مساجد بھی مساجد ہیں خواہ منہ سے ہم ان کا جو مرضی نام رکھ دیں اور ان مساجد میں نماز نہ صرف جائز بلکہ خدا تعالیٰ نے گویا ہمارے لئے یہ حق مقرر کر دیا ہے کہ ان مساجد کو اپنا ئیں چھینیں اور ان پر قبضہ کر کے ان میں خدا کی عبادت کیا کریں۔یہ کسی کو خیال نہیں آتا