خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 889 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 889

خطبات طاہر جلدا 889 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۹۲ء ہوں تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید آسمان سے ظاہر نہ ہو۔پس جب تم غیروں کی طرف جاؤ گے تو خدا کو کیا ضرورت ہے کہ تمہاری تائید میں اعجاز دکھائے۔آسمان سے معجزے نازل ہوں۔یہ تو ان لوگوں کے لئے ہوتے ہیں جو اپنے کردار میں اعجاز دکھایا کرتے ہیں خارق عادت تعلق اللہ سے باندھا کرتے ہیں۔قرآن کریم نے دیکھیں کیسا پیارا اور ہمیشہ کی سچائی کا یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:۱۲) کہ سنو خدا بھی کسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کیا کرتا جب تک وہ قوم پہلے اپنی حالت کو تبدیل نہ کر لے۔اس مضمون کا زیادہ تعلق نعمت اور نعمت کے جاتے رہنے سے ہے کیونکہ ایک اور آیت میں اسی مضمون کو اس طرح تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو جو نعمتیں عطا کر دی ہیں، ہدایت کا نور بخشا ہے اس نور کے نتیجہ میں ان کے ذہن بھی روشن ہو گئے ، ان کے قلوب بھی روشن ہو گئے ان کا ماحول اللہ تعالیٰ کے نور کی رحمت اور برکت سے روشنی کے ہر پہلو میں ترقی کرتا چلا گیا یعنی دنیا وی پہلو سے بھی وہ روشن ہو گئے اور دینی پہلو سے بھی روشن کئے گئے اور روحانی پہلو سے بھی روشن کئے گئے۔یہ وہ نعمت ہے جو آسمان سے نازل ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک اس نعمت کے قدردان لوگ رہتے ہیں اس وقت تک خدا کبھی اس نعمت کو واپس نہیں کھینچتا اور ان عزتوں کو ذلتوں میں تبدیل نہیں کیا کرتا ہاں جب قوم اپنے کردار بدلتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی اپنا اسلوب بدل لیتی ہے، ان سے اپنے تعلق کاٹ لیتی ہے ان سے اور قسم کے معاملات شروع کرتی ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ کی وہ تنبیہ ہے جس کو پیش نظر رکھ کر آج بھی مسلمانوں کو اپنے حالات پر غور کرنا چاہئے جب تک وہ بچے عبادت کرنے والے نہ بنیں گے، جب تک خدا کے گھروں سے ان کا تعلق حقیقی اور اخلاص کا نہیں ہو گا، جب تک مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ (الاعراف: ۳۰) بن کر نہیں دکھا ئیں گے اللہ کی تائید ان کے لئے ظاہر نہیں ہوگی۔میں نے جیسا کہ بیان کیا تھا دیکھنا یہ ہے کہ رد عمل سیاسی ہے یا ند ہی ہے اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جب میں نے پاکستان میں جماعت احمدیہ کے حالات پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ عبادت کی غیرت تو محض نام کے قصے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔خدا کے گھر کی محبت