خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 874
خطبات طاہر جلدا 874 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ء تو دیکھیں کس لطافت کے ساتھ اس مضمون پر مزید روشنی ڈالی ہے۔ ووٹ دینا دراصل مشورے کا ہی ایک رنگ ہے۔ عوامی مشورے ووٹ کے ذریعے ہی حاصل کئے جاتے ہیں ، آپ نے ووٹ کے ذکر کے ساتھ تو امانت کا ذکر نہیں فرمایا لیکن ہر مشورے میں امانت کو لازم قرار دے دیا اور ہر مشورہ دینے والے کو امین ٹھہرایا یعنی یہ بتایا کہ تمہیں امین ہونا پڑے گا اور یہ مضمون بہت زیادہ وسیع ہے ووٹ والے مضمون سے۔ پس ووٹ بھی مشورے کی امانت کا ایک اظہار ہے۔ دینی معاملات میں خصوصیت کے ساتھ آپ کو امین ہو کر ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہئے اور تمام دوستیاں ، تمام تعلقات ، تمام دشمنیاں، تمام عداوتیں اُس وقت بھول جایا کریں گے۔ یہ دیکھا کریں کہ آپ کے نزدیک یہ شخص اہلیت رکھتا ہے کہ نہیں۔ یعنی آپ کے نزدیک ان معنوں میں کہ خدا کی امانت کا حق ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، آپ کے تعلقات کا حق ادا کرنے کی اہلیت کا سوال نہیں ہے، یہ امانت ہے۔ پھر جب عہد یدار بنائے جاتے ہیں تو وہ امین ہیں۔ اُن کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کی تفصیل میں جائیں ، معلوم کریں، کھوج لگا ئیں کہ کیا کیا ذمہ داریاں ہیں ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے جس تفصیل سے ہمیں ہدایتیں دی ہیں آپ اس معاملے میں بھی تمام دنیا کے مؤرخوں کو ، تمام دنیا کے مذاہب کی پیرا کاروں کو چیلنج دے سکتے ہیں ، ایک نبی یا دس یا ہیں نبی یا سو نبی ملا کر دکھا دو جس نے اپنی امت کو اس تفصیل سے سے نیکیوں کی ہدایت کی ہو اور برائیوں سے روکا ہو۔ بعض جاہل اسی بات پر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اتنی تفصیل سے حکم دے دیئے حالانکہ یہ دراصل حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے امین ہونے کی صلى الله عروسه عظمت کا نشان ہے۔ ایسا امین دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوا جس نے اس گہرائی سے اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور تفصیل سے کھوج لگائے ۔ خدا نے مجھے جو امین بنایا تو کن کن اخلاق کا امین بنایا ہے، کن کن برائیوں سے روکنے پر مجھے امین مقرر فرمایا گیا ہے۔ تفصیل سے جا کر ایک ایک پہلو پر نظر ڈالی ہے، یہاں تک کہ زندگی کا کوئی پہلو بھی باقی نہیں رہا جس پر حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنی امانت کا حق ادا نہ کیا ہو۔ اب جس سیکرٹری یعنی جماعت کے سیکرٹری کو اپنے شعبے کا ہی پتا نہ ہو۔ یہ ہے کس بلا کا نام ہے مجھے کیا کیا کرنا چاہئے ، وہ کیسے امین بن سکتا ہے، کیسے امانت کا حق ادا کر سکتا ہے، تصنیف کی بات ہورہی تھی تو تصنیف کے سلسلے میں یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اس ملک میں کیا کیا علمی تحریکات ایسی چل رہی ہیں ، کیا کیا ایسے علمی رجحانات ہیں جن کا اسلام کی سچائی سے منفی یا مثبت تعلق باندھا جا سکتا