خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 873
خطبات طاہر جلد ۱۱ 873 خطبہ جمعہ ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء سپرد کیا کرتا ہے اور آج اگر کوئی امانت کا اہل ہے تو یہ شخص ہے۔لوگوں کے متعلق مرنے کے بعد، اپنے مراتب کو حاصل کرنے کے بعد امین ہونے کے دعاوی تو آپ سنتے ہی ہیں بعض دفعہ کسی بڑے عہدیدار کے متعلق اُس کے کام ختم کرنے کے بعد ، اُس کے گزر جانے کے بعد تاریخ گواہی دیتی ہے کہ وہ امین تھا۔بعضوں کے متعلق اللہ تعالی گواہی دیتا ہے کہ وہ امین تھا۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کے متعلق تقوی آمین (النمل: ۴۰) فرما کر آپ کی بہت عزت افزائی فرمائی گئی ہمیشہ کے لئے دنیا کو موسی" کا مقام بتا دیا گیا کہ وہ لقوی بھی تھا اور امین بھی تھا۔لقوی اس لئے ساتھ جوڑا گیا ہے کہ امانت کی حفاظت کے لئے ایک قوت کی بھی ضرورت ہے اور جو کمزور لوگ ہوں وہ امانت کی حفاظت نہیں کیا کرتے ، نہ کر سکتے ہیں۔یہ وہ گواہی ہے جو بعد میں دی گئی۔جہاں تک میں نے نبوت کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔میرے علم میں ایک بھی ایسا نبی نہیں آیا جس کی قوم نے یہ دعوی کیا ہو کہ اُس کے نبی بننے سے پہلے لوگ اُس کو امین کہا کرتے تھے۔سارے مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کر لیں کچھ نبی ہیں جو خدا بنا لئے گئے، کچھ خدا کے بیٹے بنالئے گئے مگر سارے عالم میں چراغ لے کر ڈھونڈیں میرے آقا محمد یے جیسا تمہیں کہیں نظر نہیں آئے گا۔وہ ایک ہی نبی ہے اور ایک ہی نبی ہے جس کے متعلق بچپن ہی سے ساری قوم گواہیاں دیتی تھی کہ یہ امین ہے، یہ امین ہے، یہ امین ہے، یہ امین ہے۔پس آپ کو اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا میں آپ امین بنتے ہیں تو خدا کی امانت اٹھانے کی اہلیت رکھتے ہیں اُس کے بغیر آپ امانت کا بوجھ اٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔پس روز مرہ کی امانت کا ذکر چلا کرا کر اب میں دینی امانتوں کی طرف اس لئے آرہا ہوں کہ پہلے اپنے اندر امانت کا بوجھ اٹھانے کی اہلیت پیدا کریں، روزمرہ کے معاملات میں امین بنیں ، تب اس لائق بنائے جائیں گے کہ محمدمصطفی ﷺ کی امانت میں آپ کے مددگار بن سکیں اُس کے بغیر نہیں۔پس اگلی امانتیں جو ہیں ان کا سفر شروع ہوتا ہے یا دینی امانتیں ووٹ دینے کے ساتھ سے، جماعتوں میں جہاں بھی عہدیدار چنے جاتے ہیں وہاں امانت کے ساتھ فیصلہ کرنا کون اہلیت رکھتا ہے۔بہت ہی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔آنحضرت ﷺ نے جو فرمایا کہ مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے ( ترمذی کتاب الادب حدیث نمبر : ۲۷۴۷)