خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 875 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 875

خطبات طاہر جلد ۱۱ 875 خطبه جمعه ۴/ دسمبر ۱۹۹۲ء ہے۔بعض اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، بعض ایسی نئی ایجادات ہیں، بعض ایسے نئے علمی رجحانات ہیں ، بعض ایسے انکشافات ہیں جو اسلام کی تائید میں پیش کئے جا سکتے ہیں، اُس وقت سیکرٹری کا کام ہے، وہ کمیٹیاں مقرر کرے، نوجوانوں کو اکٹھا کرے، اُن کے سپر د کرے کہ دیکھو فلاں اخبار میں یہ بات آئی تھی ہمیں اس کی پیروی کرنی چاہئے ، کھوج لگا کر آخر تک پہنچنا چاہئے ،اس کے تمام پہلوؤں کے اوپر ہمیں حاوی ہو جانا چاہئے۔اس سلسلے میں بھی میں انگلستان کی مثال پیش کرتا ہوں۔خدا کے فضل سے اس جماعت نے ہر پہلو سے نہ صرف بڑی بڑی ظاہر باتوں میں ترقی کی ہے بلکہ باریک پہلوؤں میں ترقی کی ہے۔اب تصنیف کا معاملہ ہے مثلاً اس سلسلے میں میں نے صدر مجلس خدام الاحمدیہ کو بلا کر سمجھایا کہ دیکھیں آپ نو جوانوں کی ٹیمیں بنائیں میں آپ کو کام دیتا ہوں اُن کے سپرد کریں مثلاً Dead Sea Scrolls ہیں۔اُن کے متعلق بہت تحقیق ہونے والی ہے اور ہم عموماً غیروں کی تحقیقات کا ماحصل سن کر اُسی پر بس کر جاتے ہیں۔حالانکہ اکثر غیر جن مشاہدات پر اپنے نظریات کی بنیاد رکھتے ہیں ان مشاہدات کے تمام اشاروں کو قبول نہیں کرتے بعض ایسے ہیں جو خدا کے حق میں اشارے ہو رہے ہیں مگر وہ اُن کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔جہاں خدا کے خلاف کوئی اشارہ ہوتا ہوا دکھائی دے اُس کو اچھالتے ہیں۔بعض اسلام کے حق میں ہونے والے اشاروں سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، اسلام کے خلاف کوئی دور کا اشارہ بھی دکھائی دے تو اُس کو نکالتے اور اچھالتے ہیں۔اُن کو میں نے سمجھایا کہ احمدی نوجوانوں کو یہ عادت ڈالیں ، ٹیمیں بنائیں کہ وہ ہل جل کران تمام علمی رجحانات پر نظر رکھیں جہاں کوئی خبر آئے وہاں ایک ٹیم بن جائے اور وہ اُس خبر کو کھوج نکالے آخر تک پہنچے ہیں۔وہ حقائق معلوم کریں اگر وہ زبان مختلف ہے تو وہ زبان سیکھنے کے لئے بعض لوگوں کو لگائیں، اسی طرح بہت سے پروگرام ان کے سپرد کئے اور میں پورے اطمینان کے ساتھ بتاتا ہوں کہ صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے بھی امانت کا خوب حق ادا کیا اور جتنے نو جوان اُن کے ساتھ اس معاملے میں شریک ہوئے اُنہوں نے بھی خوب حق ادا کیا دل کی گہرائیوں تک میں اُن کے کاموں سے راضی ہو اوہ آتے ہیں ٹیمیں بنا کر مجھ سے ملتے ہیں، بتاتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا کھوج نکالے، کیا کیا کن کن کتب کا مطالعہ کیا ، اب ہم مزید کیا کام کر رہے ہیں ، کن کن پروفیسروں سے رابطے کئے ہیں، کن کن ماہرین آثار قدیمہ سے تعلق بڑھائے ہیں ،غرضیکہ پورا علم کا جہان ہے جو نیا جہان کھلتا چلا