خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 868
خطبات طاہر جلدا 868 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ء عام مسلمانوں کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ احمدیوں کی مسجد میں منہدم کرو اور لوٹو مارو اور جو چاہو کر وعین جائز بلکہ باعث ثواب ہے۔ کہ مسجد ضرار کیا تھی کس حد تک قرآن کریم نے عبادت گاہوں کو جلانے یا منہدم کرنے کی اجازت دی ہے یہ الگ بحثیں ہیں اس سلسلے میں میں ایک دفعہ تفصیلی خطبہ بھی دے چکا ہوں۔ بنگلہ دیش کو ہدایت دی جا چکی ہے کہ آپ کو کسی قسم کی جوابی کارروائی کرنی چاہئے لیکن میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں ان معاملات میں بھی جس حد تک قرآن کریم نے اجازت دی رحانہ کارروائی کرنی چاہئے۔ اگر ان کی اس دلیل کو توڑنا ہے تو محض دلائل سے نہیں تو ڑا جائے گا ۔ اب کھوج سے ان کی گندی تاریخ کو نکال کر عوام کے سامنے پیش کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ بتانا پڑے گا کہ جب سے اسلام قائم ہوا ہے ان ملانوں نے مسجد ضرار کہہ کر یا فتنے کی مسجد کہہ کر آج تک کس کس ملک میں کتنی مسجد میں جلائی ہیں اور کتنی مسجدیں برباد کیں۔ کوئی فرقہ ایسا نہیں ہے جس کی پہلے مسجدیں توڑی یا منہدم نہ کی گئی ہوں ، اُن کو گرا کر خاکستر نہ کیا گیا ہو۔ ایک بھاری تاریخ بھری ہے اگر مسجد ضرار کا یہی معانی ہے تو پھر ان ملانوں کے تعامل سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ہر دوسرے فرقے کی مسجد کو جلا دے ، برباد کرے اور منہدم کر دے۔ ایسی ظالم قوم ہو چکی ہے کہ ان کے اوپر تو بعض دفعہ غصہ آتا ہے تو سخت لفظ استعمال کرنے کو دل چاہتا ہے مگر ہمیں تحمل کی تعلیم ہے۔ صلى الله علیه صرف ایک بات ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر درود بھیجیں ، اس زمانے کے ملانوں کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا تھا۔ شـرمـن تــحــت اديم السماء (مشكوة كتاب العلم والفضل صفحہ: ۳۸) یہ بھی نہیں فرمایا کہ انسانوں میں سے وہ بدتر ہوں گے فرمایا اُس زمانے میں آسمان کے نیچے ذلیل ترین مخلوق ہوگی ، ہمیں کیا ضرورت ہے خود کسی کو گالی دینے کی ، امت کے مالک ، امت کے بادشاہ نے ان کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ یہی حدیث ہے جو عوام الناس کے سامنے لانی چاہئے کہ تم کدھر جا رہے ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی قیادت میں تم ہر ظالمانہ کارروائی کرنے کے لئے شیر ہوتے چلے جاتے ہو ، ہر بُری بات کے لئے آگے بڑھتے ہو، شــر مــن تحت ادیم السماء کا ایک مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ جب شر کی طرف بلاتے ہیں تو اُس وقت لوگ ان کی آواز پر لبیک