خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 867
خطبات طاہر جلد ۱۱ 867 خطبہ جمعہ ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء وقت تم کیا سوچو گے اور تم کیسے اپنے دفاع کی کوشش کرو گے۔اس سلسلے میں بہت محنت کی ضرورت نہیں ہے۔دوسرے فرقوں کے مسلمان علماء نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہوئی ہیں، کوئی دیوبندی مذہب ہے، کوئی بریلوی مذہب ہے، کوئی فلاں مذہب ہے، کوئی فلاں مذہب ہے اور جتنا آپ کھو دیں گے یعنی تاریخ کے ورقوں کو کھود کھود کے نکالیں گے، بہت زبر دست لٹریچر اس معاملے میں تیار ہے۔کوئی زمانہ تھا جب وہابیوں کو دنیا کی بدترین مخلوق سمجھا جاتا تھا ہندوستان میں۔ایسی نفرت تھی کہ ایک دفعہ ایک سکھ کی دوکان بہت چل پڑی گاؤں میں اور دوسرے مسلمان دکاندار تھے اُن کی کوئی پیش نہیں جاتی تھی۔بہتوں نے کہا دیکھو جی یہ سکھ ہیں، ہم مسلمان ہیں اور تم ہمیں چھوڑ کر مسلمانوں کی اکثریت کا گاؤں تھا، ہمیں چھوڑ کر سکھوں سے سودا لیتے ہو۔وہ صاف ستھرے لوگ تھے ، دیانتدار تھے، اچھا سودا بیچتے تھے لوگ لیتے رہے اُن سے ، تو آخر ایک آدمی کو ایک ترکیب سوجھی۔اُس نے کہا کہ تم یہ پرو پیگنڈہ کرو کہ یہ سکھ وہابی ہو گیا ہے اپنے آپ لوگ سودا لینا چھوڑ دیں گے۔چنانچہ جب یہ اعلان ہوا کہ سکھ وہابی ہو گیا سارے گاؤں میں بائیکاٹ ہو گیا۔آج جب یہ کہتے ہیں احمدی ہو گیا ہے اس کا بائیکاٹ کرو کل یہی ملا تھا جو وہابی ہو گیا کہہ کہہ کر بائیکاٹ کروایا کرتا تھا، بریلوی ہو گیا کہہ کے بائیکاٹ کروایا کرتا تھا، شیعہ ہو گیا کہہ کر بائیکاٹ کروایا کرتا تھا سنی ہو گیا کہہ کے بائیکاٹ کروایا کرتا تھا، ان کو ان کی تاریخ تو یاد کر وائیں۔ابھی بنگلہ دیش سے مثلاً یہ اطلاع ملی کہ راج شاہی میں جماعت کونئی تعمیر شدہ مسجد جو ابھی اپنی تکمیل کو پہنچ رہی تھی اُس پر ملانوں نے اور اُن کے چیلے چانٹوں نے پندرہ سو کی تعداد میں حملہ کیا اور نہ صرف منہدم کیا بلکہ ایک ایک اینٹ بنیادوں کی بھی اٹھا کر لے گئے۔اب آپ اندازہ کریں کہ یہ بد بخت لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت کو سنبھالے ہوئے ہیں، اُس کے امین بنائے گئے ہیں، ایسی چوری کو ، ایسی ذلیل حرکت کو کہ خدا کے گھر کی اینٹیں بھی چرا کے لے جائیں۔اس کو اُنہوں نے امانت قرار دے رکھا ہے، ان سے تو اللہ بیٹے گا لیکن اعلان وہ یہ کر رہے ہیں کہ اس لئے ہم پر فرض ہے کہ قرآن کریم نے مسجد ضرار کا ذکر کر کے ہم پر فرض عائد کر دیا ہے کہ ہر وہ مسجد جہاں ہم سمجھیں کہ فساد ہو رہا ہے۔یعنی ہمارے نقطہ نگاہ سے اُس مسجد کی تعمیر فساد پر مبنی ہے اُسے برباد کر دیں، اُسے گرادیں۔یہ مسجد ضرار کی مثال بیان کر کے اخباروں میں یہ اعلان شائع کر کے کھلے