خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 869 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 869

خطبات طاہر جلدا 869 خطبہ جمعہ ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء کہتے ہیں یعنی شرکرنے کی طاقت ہے، نیکی کی طاقت نہیں ہے، جب نیکی کی طرف بلاتے ہیں تو سارے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں۔کوئی آواز ان کی نیکی کی دعوت پر لبیک نہیں کہتی۔میں نے پہلے بھی بارہا توجہ دلائی ہے صرف پاکستان کو چھوڑئیے ، پاکستان کے کسی چھوٹے سے قصبے کے علما مل کر اور باقی علماء کی مدد لے کر وہاں سے گندگی ، فساد، فتنه، بد دیانتی ، رشوت، چوری، ڈا کہ ظلم و ستم ، جھوٹ ان کے قلع قمع کرنے کے لئے جہاد شروع کر کے دکھا ئیں۔مجال ہے کہ کوئی ان کی بات مان لے لیکن کسی دوسرے کے اوپر ظلم کی تعلیم دے کر دیکھ لیں ، اس کا مال لوٹنے کی تعلیم دے کر دیکھ لیں ، اُس کے گھر جلانے کی تعلیم دے کر دیکھ لیں کس طرح مجمع اکٹھا ہو جاتا ہے۔کس طرح لوگ آگے بڑھ بڑھ کر اس عظیم قربانی میں حصہ لینے کے لئے پیش پیش آتے ہیں۔یہ مطلب ہے شر من تحت اديم السماء آسمان کے نیچے واقعہ اگر جانوروں کو بھی دیکھا جائے تو کوئی جانور شر کی اتنی صلاحیت نہیں رکھتا اور جانور کے ساتھ اگر شر وابستہ ہے تو خیر بھی وابستہ ہے۔مگر اس زمانے کے ملاؤں کا کیسا دردناک حال ہے، کیسا عجیب نقشہ ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ہو نے چودہ سو برس پہلے کھینچ کر رکھ دیا۔شر من تحت ادیم السماء میں ان کو کوئی انسان بھی قرار نہیں دیتا۔میں یہ کہتا ہوں کہ آسمان کے پردے کے نیچے وہ شریر ترین مخلوق ہیں۔یعنی اُن میں شر کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں نیکی پیدا کرنے کی کوئی صلاحیت موجود نہیں۔پس یہ صلائے عام ہے تمام دنیا کے علماء اس میں مخاطب ہیں، بعض ملکوں کے زیادہ شریر ہیں، بعضوں کے کم ہیں، بعض ملکوں میں شرفاء علماء کی نسبت بہت زیادہ ہیں لیکن اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جہاں بھی یہ اطلاق پاتی ہے، آسمان کے جس حصے کے نیچے ایسے بدترین لوگ ہیں ان کی تعریف یہ ہے کہ ان کی شر کی آواز پر تو لبیک کہا جائے گا، ان کی خیر کی آواز میں کوئی طاقت نہیں ہوگی۔پس پاکستان اور بنگلہ دیش کے علماء ہمارے سامنے ننگے ہو کر آچکے ہیں۔اُن سے ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث کے اثر سے نکلنا ہے تو نکل کے دکھاؤ۔ثابت کریں دنیا پر کہ نیکیوں کی تعلیم پر بھی لوگ لبیک کہہ رہے ہیں۔کوئی پیش نہیں جائے گی آپ کی کوئی ایک بدی بھی آپ عالم اسلام کو دور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ آپ کو اس پر مامور نہیں فرمایا گیا کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی اس پیشگوئی کو جھٹلانے کی آپ کو استطاعت نہیں ملی۔شر آپ سے وابستہ ہے اور شر ہی کرتے چلے