خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 866 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 866

خطبات طاہر جلدا 866 خطبہ جمعہ ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء کے ہیں تو باہر کے ہی رہیں۔جو شرفاء ہیں ان پر بھی یہ اثر ہے۔اس سلسلے میں میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے، اس نظر سے گہرا مطالعہ کیا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جتنے مسلمانوں کے بڑے بڑے فرقے ہیں اگر اسی طرز پر اُن کے خلاف غیر مسلم قرار دیئے جانے کے مطالبے کئے جائیں تو اُن کے خلاف مطالبات بہت زیادہ وزن رکھیں گے اور بہت زیادہ قوی دلائل ہیں یہ بتانے کی کہ انہوں نے اپنے آپ کو امت سے کاٹا ہے ، امت سے الگ ہوئے، اُن کے عقائد اتنے خطرناک بن گئے ، دوسرے مسلمانوں کے مقابل پر کہ وہ اکٹھے رہ ہی نہیں سکتے۔پس مَكَرُوا وَمَكَرَ الله (ال عمران : ۵۵) کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جیسے مکروہ کرتے ہیں اُس حد تک مکر کی اجازت ہے اور اللہ تعالیٰ نے مکر اور خدعہ وغیرہ کے سلسلے میں پہل کا ذکر کہیں نہیں فرمایا۔جہاں جہاں قرآن کریم میں ہدایت ہے وہاں ابتداء دشمن کی طرف دکھائی گئی اور جوابی کارروائی اللہ تعالیٰ کی طرف۔تو بعض ایسی باتیں جہاں ابتداء نہیں کرنی چاہئے ، خواہ مخواہ امت کے مزاج کو کیوں منتشر کیا جائے ، خواہ مخواہ ایسی باتوں کو کیوں اچھالا جائے جس کے نتیجے میں بعض لوگ بعض دوسروں سے بدظن ہوں لیکن جب کوئی آپ کے خلاف ایسا مکر کرے تو سنت اللہ یہ ہے کہ جوابی مکر کرنا ضروری ہے اور اُسی حد تک کیا جائے جس حد تک یہ کرتے ہیں ابتداء کی اجازت نہیں۔پس علماء کو چاہئے کہ اب یہ کتابیں لکھیں کہ کیوں بریلویوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے ، کیوں وہابیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے ، کیوں شیعوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے، کیوں فلاں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے، کیوں فلاں کو اور کیوں اسماعیلیوں کو ، کیوں دوسرے شیعہ اور سنی فرقوں کو باری باری اسلام سے نکال کے باہر مارا جائے۔اس نہج پر الگ الگ مطالبے کی کتابیں بننی چاہئیں جماعت کوئی مطالبہ نہیں کرے گی۔جماعت بتائے گی کہ اس طرح مطالبے ہوتے ہیں۔جماعت امت مسلمہ کو سمجھائے گی کہ جس طریقے پر تم نے ہمارے خلاف مطالبے سنے اور اُن کو اپنے ذہنوں میں جگہ دی اور اسی طریق پر دوسرے مطالبے بھی دیکھو۔اب ہماری باری ہے کہ ہم تمہیں کر کے بتائیں کہ کیا ہوتا رہا ہے ہم سے۔جب ہم سے ہوتا تھا تو تمہارے کان پر جوں بھی نہ رینگی اگر رینگی تو فساد کی جوں رینگی ہے۔ہم فساد کی خاطر نہیں مگر تمہیں سمجھانے کی خاطر کہ یہ چوٹ جب تم پر پڑے گی تمہارے دلوں کو مجروح کرے گی۔اُس