خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 865 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 865

خطبات طاہر جلد ۱۱ 865 خطبہ جمعہ ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء حملہ کرتا ہے اور جہاں سے کرتا ہے ایسی شدید فوری جوابی کارروائی ہو کہ لازما دشمن کے پاؤں اکھر جائیں یہاں تک کہ وہ رعب قائم ہو اور بڑھتا رہے۔جس کے بعد کسی شریر کو جرات نہ ہو کہ آتے جاتے خواہ مخواہ چھیڑ خانی شروع کرے اور خواہ مخواہ جماعت کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے۔اس ضمن میں سیکرٹریان اشاعت کی بات ہو رہی ہے تو مرکزی علماء کو بھی اس وقت ربوہ میں بیٹھے میری بات سن رہے ہیں اُن کو ایک نصیحت کرنی چاہتا ہوں۔جماعت کے خلاف جو آج کل کارروائیاں ہو رہی ہیں اُن کا لب لباب یہ ہے کہ ہر جگہ سے جماعت کے پاؤں اکھیڑنے کی خاطر سعودی عرب کے پیسے سے پاکستان کے ملانے اور بعض دوسرے کارندے مل کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ عام مسلمان پر مختلف ممالک میں یہ تاثر دیں عام مسلمانوں کو کہ آپ میں اور ان میں بڑا فرق ہے۔ہم جو ان سے غیر معمولی سلوک کر رہے ہیں اُس کی وجوہات ہیں۔آپ کے عقیدے سے اختلاف بھی رکھتے ہوں پھر بھی ہم سب سے ملتے جلتے ہیں ہم بالعموم اقدار مشتر کہ رکھتے ہیں ، مشترک قدریں رکھتے ہیں لیکن ان کا مزاج الگ، ان کے خیالات اور عقائد الگ اور اتنا فرق ہے کہ ہم میں مل کر ہمو کر، اکٹھے ہو کر بیٹھ ہی نہیں سکتے۔پس یہ فرق انہوں نے خود اپنے اندر قائم کئے ہیں، ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ، ہمارے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتے ، فلاں بات نہیں کرتے ،ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا وغیرہ وغیرہ اور بار بار یہ تاثر زیادہ عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے سارا قصور جماعت احمدیہ کا ہے خود الگ ہو بیٹھی ہے، اپنے عقائد مختلف بنا بیٹھی ہم کیا کر سکتے ہیں۔اس کی جوابی کارروائی اس رنگ میں تو ہوتی ہے کہ اُن کے ہر اعتراض کا مؤثر جواب دیا جاتا ہے، بتایا جاتا ہے کہ کہاں جھوٹ بول رہے ہیں جو سچی بات ہے اس کی توجیہہ کیا ہے؟ کیوں ہم ایسا کرتے ہیں؟ اس کا شرعی جواز کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔لیکن اب وقت ہے کہ جوابی حملہ کیا جائے ورنہ سنجیدہ جوابی کارروائی کا عوام الناس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا ہے۔اول تو ان تک یہ کتا بیں پہنچتی نہیں، پہنچے بھی تو عوام الناس میں یہ شعور نہیں ہوتا کہ اعتراض اور اس کے جواب کا صحیح موازنہ کرسکیں اس لئے بڑی مشکل پیش آتی ہے اور پھر یوں لگتا ہے کہ ہم سب باقی مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ صرف یہی ہیں جو محل نظر ہیں۔ہمارے اسلام پر تو شک نہیں ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے ان کا جواب پڑھیں اور یہ فیصلے کریں کہ واقعتا سچے الزام ہیں یا جھوٹے الزام ہیں ساری امت نے مل کر نکال باہر مارا ہے، ہم بھی سمجھ لیتے ہیں کہ چلو باہر