خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 850 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 850

خطبات طاہر جلدا 850 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء اور کہاں پڑا ہوا ہے اور کب سے آیا ہوا ہے، کس نے چھوایا تھا؟ اس کی جو قیمت ہم نے دینی ہے یا دے دی ہے کہ نہیں۔جب چھ مہینے سال کے بعد دو تین دفعہ امراء کولکھا جاتا ہے تو پھر اطلاع ملتی ہے کہ یہ اتنا لٹریچر ہمیں ملا تھا، فروخت اتنا ہوا ہے اور باقی اتنا پڑا ہوا ہے۔یہ بھی نہیں پتا کہ کہاں پڑا ہوتا ہے۔جب ایک چیز کسی کے سپرد کی جاتی ہے تو اُس کے مختلف پہلو ہیں جو اس کے ذہن میں فوراً ابھر نے چاہئیں۔مثلاً ایک اشاعت کا سیکرٹری جس کو بنایا جاتا ہے اُس کو فوری طور پر یہ پتا کرنا چاہئے کہ کتنی کتابیں ہیں جن کا میں ذمہ دار ہوں، کتنے رسائل ہیں جن کا میں ذمہ دار ہوں، وہ جگہ میرے پاس کون سی ہیں جہاں میں ان کو رکھوں گا کس سلیقے سے مجھے اُن کو ترتیب دینا چاہئے۔یہ سوچ آتے ہی سب سے پہلے وہ ان کاموں میں مصروف ہو جائے گا۔ایک شخص کو سیکرٹری اشاعت بنایا ہے اس کے بعد ہوسکتا ہے اس کے بعد مہینہ بھر ان محنتوں میں لگ جائے۔یہ معلوم کرے کہ نہ کوئی ہمارا کمرہ ہے جہاں اسٹاک رکھا جا سکتا ہے، نہ کتابوں کو خوبصورتی کے ساتھ دکھانے کا کوئی انتظام موجود ہے،نہ کوئی اسٹاک رجسٹر ہے جس میں درج ہو یہ کتا بیں کب ، کہاں سے آئی تھیں اور ہم نے اُس کی قیمت کسی کو ادا کرنی بھی ہے کہ نہیں، نہ اُس کو یہ پتا ہو کہ ان کتابوں کو آگے پھر شائع کرنے کا طریق کیا ہے؟ بہت وسیع کام ہے لیکن اکثر سیکرٹری اشاعت بالکل غافل ہیں اُن کو علم ہی کوئی نہیں اور نہ امراء اُن کو اس طرح بلا کر جواب طلبی کرتے ہیں، نہ اُن سے وہ پوچھتے ہیں ، اس لحاظ سے امیر بھی اپنی امانت کا حق ادا نہیں کرتے۔میں نے ایک مثال جو رکھی ہے اس کو اور زیادہ آگے بڑھا کر دکھاتا ہوں پھر آپ کو پتا چلے گا کہ کتنے کام ہیں جو جماعت میں ہونے والے ہیں اور ایک ایک کام کو جب آپ نظر کے سامنے رکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے دنیا میں ایسی جماعت سے تعلق رکھنا جسے قرآن کریم میں أُخَرِینَ (الجمعہ ۴) قرار دیا جسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے پیغام کو تمام دنیا میں دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے۔یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔یہی وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر خدا تعالیٰ نے سارے مسلمانوں کو بحیثیت ایک جماعت کے خلیفہ قرار دیا ہوا ہے۔قرآن کریم میں جو آیت استخلاف ہے اُس میں مضمون اسی طرح شروع فرمایا گیا۔گویا وہ تمام محمد مصطفی اللہ کے ساتھی جن کو آپ پیچھے چھوڑ کر جانے والے ہیں وہ سارے ہی خلیفہ ہیں کیونکہ جب تک ہر شخص خلیفہ نہ بنے وہ جو خلیفہ کے طور پر چنا جاتا ہے اُس کی تائید ہونہیں سکتی ناممکن ہے کہ وہ