خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 851 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 851

خطبات طاہر جلدا 851 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء اپنی ذمہ داریاں بحیثیت خلیفہ ادا کر سکے جب تک ہر فرد بشر جو اُس کے ساتھ کام کرنے والا ہے وہ اپنی ذات میں ، اپنے محدود دائرے میں ایک خلیفہ کی طرح اُس کا مؤید اور معاون نہ بنے اور اُس کی نصرت کرنے والا ہو۔جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک کوئی خلیفہ کامیاب نہیں ہو سکتا اسی لئے قرآن کریم نے کیسی پیاری دعا ہمیں سکھائی ہے کہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ( الفرقان: ۷۵) یہ دعا کیا کرو کہ اے خدا ہمیں متقیوں کا امام بنا۔جب تک متقی جماعت میں داخل نہ ہو یا جماعت متقیوں کی جماعت نہ بن جائے۔اُس وقت تک امامت کا معیار بلند نہیں ہو سکتا امامت کا گہرا تعلق متقیوں سے ہے اور اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ہے کے متعلق جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺہ تمام نبیوں کے سردار اور سب سے افضل ہیں تو لازماً یہ بات تبھی سچی لگتی ہے اگر آپ کے ساتھی وہ صحابہ جن کی آپ نے تربیت کی ہے وہ تمام دنیا میں انبیاء کی تربیت یافتہ دوسرے لوگوں سے زیادہ معیار ہو اور ان سے افضل ہیں۔پس آنحضرت ﷺ نے سب سے زیادہ متقی اپنے پیچھے چھوڑے تھے۔اگر اسی بات پر آپ غور کر لیں تو شیعہ مسلک کا فساد آپ کے سامنے کھل جاتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آنحضرت ﷺ کو تمام دنیا کے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہولیکن آپ متقیوں کے امام نہ ہوں بلکہ نعوذ باللہ من ذلک منافقین کی اکثریت کے امام ہوں جو منافقین کا امام ہے متقیوں کے اماموں کا امام کیسے بن سکتا ہے۔پس اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں اگر شیعہ اس بات پر ہی غور کر لیں کہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ متقیوں کے آئمہ میں سے سب سے بلند مرتبہ رکھنے والے امام تھے اور جب تک تقویٰ کے لحاظ سے آپ کے متبعین کا معیار تمام دنیا کے انبیاء کے متبعین کے معیار سے بلند نہ مانا جائے۔محمد مصطفی ﷺ کا معیار امامت بلند نہیں ہو سکتا۔پس یہی مضمون ہے جو آگے خلافت میں جاری ہے اور جاری رہے گا۔متقیوں کی جماعت کی ضرورت ہے ایسی جماعت کی ضرورت ہے جن میں ہر فرد بشر ایک خلیفہ کی طرح اپنی ذمہ داریاں اپنے دائرہ کار میں ادا کرنے کا شعور رکھتا ہو۔یہ احساس رکھے کہ میں نے بہر حال یہ ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔اس معیار کو جتنا بلند کرتے چلے جائیں گے اُتنا اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ہم اپنے مقاصد کو حاصل کر سکیں گے اور وہ مقاصد یہی ہیں کہ اسلام کو دنیا میں نافذ کیا جائے اور اسلام کی تمام خوبیوں کو اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ انسانوں کی زندگیوں میں ڈھال دیا