خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 849
خطبات طاہر جلدا 849 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء لٹریچر مختلف زبانوں میں شائع نہیں ہوا جتنا خدا کے فضل سے چند سالوں میں جماعت احمدیہ کو شائع کرنے کی توفیق ملی ہے مگر اس لٹریچر کی اشاعت کا کیا فائدہ اگر آج بھی جس دور میں لٹریچر تیار ہورہا ہے آج کے احمدیوں کو بھی پورا علم نہ ہو کہ کیا ہے؟ اور جہاں تک غیروں کا تعلق ہے جن سے اُس لٹریچر کا تعلق ہے اُن تک وہ نہ پہنچے۔اس سلسلے میں سب سے بڑی غفلت اُس سیکرٹری کی ہے جس کے سپرد اشاعت کا کام ہے۔جب بھی مجھے موقع ملا ہے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ سیکرٹریوں کو پتاہی نہیں کہ اُن کا کام کیا ہے؟ ایک ٹیسٹ ہے جو میں آپ سب امراء کے سامنے رکھتا ہوں جو دنیا میں میری آواز سن رہے ہیں، بعد میں سنیں گے یا پڑھیں گے کہ وہ کسی وقت اپنے سیکرٹری اشاعت کو بلا کر اس سے پہلے کہ وہ تیاری کرلے موجودہ حالت کا اندازہ کرنے کی کوشش کرے تو اُن پر بات کھل جائے گی۔ان سے وہ پوچھیں کہ بتاؤ کہ جماعت کا کون کون سا لٹریچر، کن کن زبانوں میں شائع ہوا ہے، تمہارے پاس کچھ فہرست ہے اُس کی۔تمہارے علم میں ہے کہ کیا ہے اور تمہارے پاس وہ کہاں ہے اور کتنا ہے، کتنے رسائل شائع ہوتے ہیں، کتنا لٹریچر ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور نظام سلسلہ کی کتب سے تعلق رکھتا ہے، اُس کے تراجم کس زبان میں ہے اور اُن کو جماعت میں اور غیروں میں رائج کرنے کے لئے تم نے کیا کوشش کی ہے۔کیا تمہیں پتا ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں کتنی زبانیں بولنے والے موجود ہیں؟ کبھی تم نے سوچا ہے کہ آج میرے پاس کوئی احمدی آئے اور کہے کہ مجھے بوسنیا کا ایک نمائندہ ملا ہے میں اُس کو کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں تو میں کیا پیش کروں گا۔کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر کوئی آکر یہ کہے کہ اٹلی کا باشندہ میرا دوست بنا ہے مجھے بتاؤ کہ میں اُس کو کیا دوں۔تم نے غور کیا ہے کوئی شخص تمہارے پاس آئے کہ میں کوریا کے دوست کو لے کر آیا ہوں اُس کو پیش کرنے کے لئے بتائیے آپ کے پاس کیا ہے غرضیکہ دنیا کی بڑی بڑی قو میں اور بڑی بڑی مختلف زبانیں ایسی ہیں جن کو تبلیغ کے سلسلے میں استعمال کرنا ضروری ہے ورنہ زبانوں کے بغیر کس طرح آپ پیغام پہنچا سکتے ہیں۔اور ان زبانوں میں اگر بول چال کی اہمیت نہیں ہے تو کم سے کم تحریر ہی پیش کر سکیں۔اگر گفتگو نہیں ہے تو تحریر بہت سی باتیں ہو جاتی ہیں کئی گونگے ہیں جو بیچارے بول نہیں سکتے لیکن لکھنا سیکھ لیتے ہیں۔تو زبان نہیں تو تحریر ہی سہی لیکن تبلیغ کا بہر حال کام ہونا ضروری ہے، پیغام پہنچانا ضروری ہے مگر اکثر لٹریچر ایسا ہے جن کے متعلق سیکرٹری اشاعت کو پتا ہی نہیں ہے۔وہ ہے کیا