خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 836 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 836

خطبات طاہر جلد ۱۱ 836 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء پس میں اپنی قوم کو یہ اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے لئے غور کریں، سمجھیں آپ نے بچنا ہے تو ان اقدار سے بچیں گے جو زندگی کی اقدار ہیں۔ان اقدار کو آپ قرآن کریم سے حاصل کر سکتے ہیں حضرت محمد مصطفی میں اللہ سے حاصل کر سکتے ہیں۔اس کے سوا وہ اقدار آپ کو کہیں دکھائی نہیں دیں گی۔اب اسی مضمون کو آپ عالم اسلام پر چسپاں کر کے دیکھیں۔میں اس طرح تفصیل میں نہیں جانا چاہتا جیسے میں نے پاکستان کا ذکر کیا مگر بوسنیا کے حوالے سے مثلاً میں آپ کو بتا تا ہوں۔میں نے چھلی دفعہ بھی بیان کیا تھا کہ بوسنیا کے مسلمانوں کی اتنی دردناک حالت ہے کہ اب تو غیر رونے لگے ہیں، اب تو عیسائی قوموں کے وہ سربراہ یعنی وہ صاحب اقتدار لوگ جو بہت حد تک ان باتوں کے ذمہ دار ہیں، اس غفلت کے مجرم ہیں کہ ایک قوم کو انہوں نے آنکھوں کے سامنے مٹاتے ہوئے دیکھا ، ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی نہایت بھیانک کوشش اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھی، روک سکتے تھے اور نہیں روکا لیکن اب حالت وہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود وہ بھی ان باتوں کا نوحہ کرنے لگے ہیں کہ بہت ظلم ہو رہا ہے اور ہم کچھ نہیں کر رہے۔مغربی سیاستدان اب جگہ جگہ اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور بلند آواز سے وہ باتیں کر رہے ہیں جس پر اس شعر کا مضمون صادق آتا ہے کہ رخصت نالہ مجھے دے، کہ مبادا ظالم تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا (دیوان غالب صفحہ: ۹۱) اے ظالم ! مجھے اجازت دے کہ میں اپنے غم بیان کروں ورنہ وقت آئے گا کہ تیرے چہرے سے میراثم ظاہر ہونے لگے گا۔عالم اسلام کی زبان تو انہوں نے بھینچ رکھی ہے یا عالم اسلام کے سر براہوں نے اپنی زبان ان کے ہاتھوں فروخت کر رکھی ہے، بیچ رکھی ہے۔کسی کی کھینچی گئی۔کسی کی بیچی گئی۔عالم اسلام میں تو ان مظلوم بھائیوں کا نوحہ کرنے والا کوئی رہا نہ تھا لیکن حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے چہرے سے ہمارے مظلوم بھائیوں کا غم ظاہر ہونے لگ گیا ہے۔ایسے ایسے درد ناک واقعات سننے میں آرہے ہیں۔جو مظلوم وہاں سے لٹ کر اور بعض اس طرح بیچ کر نکلے ہیں کہ خاندان کے سارے افراد کاٹے گئے ایسے ایسے بھیانک نقشے انہوں نے دکھائے ہیں کہ جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔بھٹیاں روشن کی گئیں اور ان کے سامنے ان کے بچے ان بھٹیوں میں جھونکے گئے اور کہا گیا یہ تمہاری آئندہ نسل ہے، دیکھ لو یہ کہاں جارہی ہے۔صاحب دانش