خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 837 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 837

خطبات طاہر جلد ۱۱ 837 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء لوگوں کو ان کے سامنے پہلے بھوکا رکھا گیا۔پھر ایک آدمی جو تعلیم یافتہ اور سر براہ بنے کی کسی پہلو سے بھی حیثیت رکھتا تھا۔یعنی قوم کا لیڈر بننے کی حیثیت رکھتا تھا اس کو بڑے دردناک طریقوں پر عذاب دے دے کر سب کے سامنے مارا گیا کہ ہم نے تمہارا سر بھی کاٹ دیا ہے، تمہارا مستقبل بھی برباد کر دیا ہے تم واپس آ کیسے سکو گے۔اتنی درد ناک حالت ہے لیکن عالم اسلام کو کچھ ذرہ بھی پتا نہیں لگا کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا ہے۔کتنی حسرت اور شرم کا مقام ہے کہ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو کیسے رکھیں، ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں ہیں، ہمارے اپنے آدمی بغیر ایمپلائمنٹ کے ہیں پھر بھی یورپ نے اتنا کر دیا مگر کبھی آپ سعودی عرب سے یہ بات نہیں سنیں گے، لیبیا سے یہ بات نہیں سنیں گے، دوسرے اسلامی ممالک جو تیل سے اتنے دولتمند ہو چکے ہیں کہ دولتوں کے پہاڑ لگ گئے ہیں ان کو ادنی بھی حیا نہیں آئی ، ادنی بھی اس بات کا خیال نہیں آیا کہ ان غریب بھائیوں کے اوپر وہ خرچ کریں اور عیسائی ملکوں کو کہیں کہ تم اپنے ہاتھ کھینچ لو ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے تم اس ظلم میں شامل اور شریک ہو ہم اپنے بھائیوں کی خبر گیری کرنا جانتے ہیں۔ان کے لئے کوئی ایک آواز آپ نے ان سے نہیں سنی ہوگی، کسی حکومت نے اپنے خزانے ان کے لئے نہیں کھولے،خزانے کیا اپنے سود کے اموال کا ایک ہزارواں لا کھواں حصہ بھی ان پر خرچ کرنے کی توفیق نہیں پائی۔نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مجھے چونکہ جماعت کی طرف سے مختلف ممالک سے رپورٹیں آرہی ہیں کہ ہم نے بوسنیا کے مظلوموں سے رابطے کئے وہاں یہ دیکھا، ان کی ہمدردی کی۔ان میں سے ایک خط ہے جس نے مجھے شدید تکلیف پہنچائی اور وہی خط اس بات کا موجب بنا ہے کہ میں آپ کے سامنے اسلامی ممالک کی اس بے حسی کا رونا روؤں۔یہ بھی خیانت کی ایک قسم ہے اور بہت بڑی خیانت کی قسم ہے کہ خدا اموال دے اور جن پر خرچ کرنے کا حکم ہو اور ان کا خرچ روکنے کے لئے کوئی محرک موجود نہ ہو۔ایک غریب آدمی تو کسی کا حق مار بھی لے تو سمجھا جاتا ہے کہ چلو مجبور مار لیا لیکن ایک صاحب دولت جس کے اموال میں اس کے غریب بھائیوں کا حق موجود ہو جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات :۲۰) قوموں کی زندگی پر ایسے مواقع آتے ہیں کہ ان کے غرباء کے ان امیروں پر حق بن جایا کرتے ہیں صدقے کی بات نہیں رہتی ، خیرات کا معاملہ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔سائل اور محروم ایسے